مقامی ۲۳ مئی ۲۰۲۶

11 سالہ بچی کی بازیابی کے قافلے میں بندوق تھامے پشتون ماں کی شمولیت، مناظر سوشل میڈیا پر وائرل

کوئٹہ( صداقت انٹرنیشنل (اردو)) سندھ کے کچے کے علاقے سے اغوا ہونے والی 11 سالہ معصوم بچی کی باحفاظت بازیابی کے لیے بلوچستان سے روانہ ہونے والے “دولت ترین” کے احتجاجی قافلے میں کچلاک کے مقام پر ایک پشتون ماں کی روایتی بندوق اٹھائے شمولیت نے سب کی توجہ حاصل کر لی۔ ہاتھ میں بندوق تھامے اس غیور خاتون کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں، جہاں صارفین ان کے جذبے اور جرات کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔ یو این اے نیوز ایجنسی کے مطابق قافلہ جب کچلاک پہنچا تو مذکورہ خاتون مظلوم بچی سے اظہارِ یکجہتی اور اغوا کاروں کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے قافلے میں شامل ہوئیں۔ وائرل ویڈیو میں خاتون کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ایک ماں ہونے کے ناطے وہ مغوی بچی کے خاندان کا درد شدت سے محسوس کرتی ہیں اور اپنی بیٹیوں کے محفوظ مستقبل کے لیے اس قافلے کے ساتھ کھڑی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی معصوم بچی کا اغوا پوری قوم کی غیرت کا مسئلہ ہے۔ قافلے کے شرکا نے خاتون کے اس اقدام کو جرات، غیرت اور مظلوموں سے یکجہتی کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام ہمیشہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔