پاکستان ۱۲ جون ۲۰۲۶

ہر خریداری پر ٹیکس، صرف سانس لینے پر ٹیکس باقی ہے، ذیشان مرچنٹ

کراچی (ویب نیوز) معروف ٹیکس ماہر ذیشان مرچنٹ نے کہا ہے کہ ملک میں جائیداد، گاڑی اور تقریباً ہر چیز کی خریداری پر ٹیکس عائد ہے، صرف سانس لینے پر ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ جیو نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انکم ٹیکس ریٹرن فائلرز کی تعداد میں اضافہ نہ ہونے کی بنیادی وجہ عوام کا ٹیکس نظام پر اعتماد نہ ہونا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ سسٹم میں شامل ہونے سے اس لیے گھبراتے ہیں کیونکہ فائلرز ہی آڈٹ، جرمانوں اور بینک اکاؤنٹس منجمد ہونے جیسے اقدامات کا سامنا کرتے ہیں جبکہ نان فائلرز نسبتاً محفوظ رہتے ہیں۔ ذیشان مرچنٹ نے کہا کہ چھوٹے کاروباروں کے لیے ٹیکس کا نظام انتہائی پیچیدہ اور بوجھل بنا دیا گیا ہے، جہاں بعض صورتوں میں ٹیکس کی شرح تقریباً 49.5 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ٹیکس نظام کو آسان بنایا جائے اور ٹیکس دہندگان کو شراکت دار سمجھا جائے نہ کہ مشتبہ افراد۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران تنخواہ دار طبقے سے وصول کیے جانے والے ٹیکس میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور یہ رقم 150 ارب روپے سے بڑھ کر 610 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کے پاس مالی گنجائش موجود ہے، اس لیے تنخواہ دار طبقے اور باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والوں کو ریلیف فراہم کیا جانا چاہیے۔