گھوٹکی(ڈیلی صداقت انٹرنیشنل) پاکستان کے صوبہ سندھ کے شمالی ضلع گھوٹکی میں ایک خاتون سے مبینہ اجتماعی ریپ کرنے کا مقدمہ پانچ ملزمان کے خلاف درج کر لیا گیا ہے تاہم پولیس کا کہنا ہے اس کیس میں تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گیی ہے۔یہ ایف آئی آر متاثرہ خاتون کے والد کی مدعیت میں تھانہ عادلپور میں درج کی گئی ہے جس میں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ تین مئی کو اُن کی اہلیہ اور بیٹی شام کے اوقات میں اکٹھے گھاس کاٹنے گئی تھیں۔ایف آئی آر میں والد کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ کچھ ہی دیر بعد والدہ کو اپنی بیٹی کے چیخنے کی آوازیں قریب واقع مقامی وڈیرے کے ڈیرے سے آئیں اور وہاں پہنچنے پر پتا چلا کہ ملزم وڈیرہ مشتاق اپنے پانچ دیگر ساتھیوں سمیت وہاں موجود ہے جبکہ وہاں موجود ایک شخص نے کلاشنکوف اٹھا رکھی تھی۔ایف آئی آر کے مطابق والد نے الزام عائد کیا ہے کہ اِس موقع پر اُن کی بیٹی کو بے لباس کیا گیا اور باری باری وہاں موجود افراد نے اس کا ریپ کیا۔یہ مقدمہ 19 مئی کو مقامی تھانے میں دائر کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ واقعہ تین مئی کو پیش آیا تھا۔ مدعی نے مقدمے کے اندراج میں تاخیر کی وجہ بتاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ وہ علاقہ معززین سے مشورہ کرنے کے بعد مقدمہ درج کروانے آئے ہیں۔یاد رہے کہ اس سے قبل متاثرہ خاتون اور اُن کے اہلخانہ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں وہ اپنے ساتھ پیش آئے مبینہ واقعے اور ریپ کی تفصیلات بتا رہی تھیں۔مقامی پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون کا میڈیکل کروایا گیا ہے اور ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متاثرہ خاتون 19 مئی 2026 کو معائنے کے لیے ہسپتال پہنچیں جبکہ اُن کے مطابق مبینہ واقعہ تین مئی 2026 کو پیش آیا ہے۔ گائناکولوجیکل معائنے کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متاثرہ خاتون کی ہائمن برقرار نہیں تھی جبکہ معمولی ویجائنل بلیڈنگ بھی تھی۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ریفرل ادارے کی فیڈبیک میں بتایا گیا کہ معائنے کے دوران کسی قسم کا زخم نہیں پایا گیا جبکہ یہ بھی درج کیا گیا کہ ویجائنا میں دو انگلیاں باآسانی داخل ہو رہی تھیں۔ایس ایس پی انور کھیتران نے بی بی سی کو بتایا کہ ایف آئی آر اور میڈیکل کروایا گیا ہے تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔
