مقامی ۲۰ مئی ۲۰۲۶

گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور فیکلٹی ممبران کے اغوا کے خلاف بلوچستان بھر کی جامعات میں بھرپور احتجاجی مظاہرے اور جلسے

کوئٹہ(ڈیلی صداقت انٹرنیشنل) اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن یونیورسٹی آف بلوچستان اور فپواسا بلوچستان چیپٹر کے پلیٹ فارم سے آج یونیورسٹی آف بلوچستان کوئٹہ سمیت صوبے کی دیگر تمام جامعات میں گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر منظور شاہ، فیکلٹی ممبر ڈاکٹر ارشاد احمد اور حاتم بلال کے اغوا کے خلاف اور ان کی باحفاظت بازیابی کے لیے بھرپور احتجاجی مظاہرے اور جلسے منعقد کیے گئے۔ یونیورسٹی آف بلوچستان میں اساتذہ کی ایک بڑی تعداد نے آرٹس بلاک سے احتجاجی جلوس نکالا جو مختلف شعبہ جات سے ہوتا ہوا وائس چانسلر سیکرٹریٹ کے سامنے پہنچا، جہاں ایک عظیم الشان احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا۔ جلسے کی صدارت اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ نے کی۔احتجاجی جلسے سے اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، جنرل سیکرٹری فرید خان اچکزئی، پریس سیکرٹری رحمت اللہ اچکزئی، پروفیسر عبدالباقی جتک، سید شاہ بابر، آفیسرز ایسوسی ایشن اور وفا بلوچ ایمپلائز ایسوسی ایشن کے رہنماں نے تفصیلی خطاب کیا۔ مقررین نے اپنے خطاب میں شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک اور شرمناک امر ہے کہ گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر اور ان کے دیگر ساتھی چھ روز قبل اغوا ہوئے، مگر تاحال انہیں بازیاب نہیں کرایا جا سکا۔ انہوں نے گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے اس انتہائی حساس معاملے میں کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی گئی۔ مقررین کے مطابق وزیراعلی، چیف سیکرٹری، گورنر، وزیر تعلیم، وزیر داخلہ اور دیگر تمام اعلی حکام کو چاہیے تھا کہ وہ اغوا شدگان کے گھروں میں جا کر ان کے شدید پریشان اہل خانہ سے یکجہتی کا اظہار کرتے، مگر حکمرانوں نے روایتی بے حسی کا مظاہرہ کیا۔مقررین نے اس امر پر بھی سخت افسوس کا اظہار کیا کہ صوبے کی دیگر گیارہ جامعات کے وائس چانسلرز اور پرو وائس چانسلرز نے بھی اس سنگین واقعے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور اپنے ہم منصبوں کے اغوا کے خلاف کوئی مثر آواز بلند نہیں کی۔ احتجاجی جلسے کے مقررین نے حکومت اور مقتدر حلقوں سے پرزور مطالبہ کیا کہ اغوا شدہ اساتذہ کرام اور سپورٹنگ اسٹاف کو فوری طور پر بحفاظت بازیاب کرایا جائے اور تمام جامعات میں اساتذہ، ملازمین، افسران، طلبہ و طالبات کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔ مقررین نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ اگر اغوا شدگان کو فوری طور پر بازیاب نہ کرایا گیا تو احتجاج کا دائرہ کار مزید وسیع کرتے ہوئے صوبائی اسمبلی کے سامنے صوبے بھر کی جامعات کے اساتذہ، ملازمین، افسران اور طلبہ و طالبات کے ہمراہ ہنگامی طور پر بہت بڑا احتجاج کیا جائے گا جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر ہوگی۔