حیردین (اے این این)جروار پل پٹ فیڈر کے قریب او ڈی سی ایل جروار پل (دیھ گانڈر) پر قائم سولر پاور پلانٹ ایک مرتبہ پھر سوالیہ نشان بن گیا ہے، جہاں کروڑوں روپے کی لاگت سے تیار کیا گیا منصوبہ فعال ہونے کے باوجود عوام کو میٹھے پانی کی فراہمی میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔تفصیلات کے مطابق مذکورہ منصوبہ 2017 میں صحبت پور شہر اور گردونواح کو صاف اور میٹھا پانی فراہم کرنے کے مقصد سے شروع کیا گیا تھا، جبکہ 2025 میں ایک غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے اس کی مرمت کر کے جدید سولر سسٹم پر منتقل بھی کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق پاور پلانٹ اس وقت مکمل طور پر فعال حالت میں موجود ہے اور یہاں سے چار انچ کی پائپ لائن صحبت پور شہر کی 15 پولیس چوکی تک بچھائی جا چکی ہے۔اس کے باوجود شہری آج بھی میٹھے پانی کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں اور مہنگے داموں پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اسی پاور پلانٹ سے ٹینکرز میں پانی محض 200 روپے میں بھرا جاتا رہا ہے، جو بعد ازاں شہر میں فی کین 30 سے 40 روپے میں فروخت کیا جاتا ہے، جس سے عوام کے استحصال اور سرکاری وسائل کے ممکنہ غلط استعمال کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر پلانٹ مکمل طور پر فعال ہے تو انہیں پانی کی فراہمی کیوں ممکن نہیں بنائی جا رہی۔ عوامی اور سماجی حلقوں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔شہریوں اور سماجی تنظیموں نے سیکریٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ بلوچستان، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ عوام کو ان کا بنیادی حق فراہم کیا جا سکے اور اس اہم منصوبے کو حقیقی معنوں میں فعال بنایا جا سکے۔
