کوئٹہ(یو این اے)تفتان سے کوئٹہ اور اندرون ملک جانے والے دو درجن سے زائد ٹرکوں اور ٹرالروں کو کردگاپ کے مقام پر مسلح افراد کی جانب سے روک لیے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جبکہ علاقے میں سیکیورٹی کی صورتحال کشیدہ ہونے کے باعث خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ذرائع کے مطابق مسلح افراد نے قومی شاہراہ پر سفر کرنے والے متعدد ٹرکوں اور ٹرالروں کو روک کر انہیں شاہراہ سے تقریبا دس کلومیٹر دور نامعلوم مقام کی جانب منتقل کردیا۔ اطلاعات کے مطابق بعض ڈرائیوروں کو واپس گھروں کو جانے کی اجازت دی گئی جبکہ سینکڑوں دیگر گاڑیوں کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ انہیں خفیہ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ٹرالر ڈرائیور استاد ثنا اللہ نے خبررساں ادارے یو این اے سے گفتگو کرتے ہوئے واقعے کی تصدیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے ٹریلر سمیت چار دیگر ٹرالروں کے ڈرائیوروں کو واپس جانے کی اجازت دے دی گئی، تاہم بڑی تعداد میں ٹرک اور ٹرالے مسلح افراد کے قبضے میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیے گئے ہیں۔دوسری جانب اطلاعات کے مطابق کردگاپ کے مقام پر مسلح افراد اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔ فائرنگ کے باعث کردگاپ اور پہنجپای کے علاقوں میں شدید خوف و ہراس پایا جا رہا ہے، جبکہ مقامی افراد نے گھروں تک محدود رہنے کو ترجیح دی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ صورتحال کے باعث قومی شاہراہ پر ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی ہے اور متعدد مقامات پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ تاہم سرکاری سطح پر اب تک واقعے کی مکمل تفصیلات یا کسی ممکنہ جانی نقصان کے حوالے سے باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق علاقے کی صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے جبکہ شاہراہ کو محفوظ بنانے اور صورتحال کو کنٹرول میں لانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ مزید تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ نوٹ: اس خبر میں شامل بعض معلومات ابتدائی اطلاعات اور مقامی ذرائع پر مبنی ہیں، جن کی سرکاری سطح پر مزید تصدیق ہونا باقی ہے۔
