ژوب (ویب نیوز)پشتونخواملی عوامی پارٹی کے زیر اہتمام 7 اکتوبر 1983 کے شہدا جمہوریت اور 11 اکتوبر 1991 کے شہدا وطن کی یاد میں باز محمد شہید پارک، ژوب میں ایک پروقار اور عظیم الشان جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا۔ جلسے میں ضلع ژوب اور ضلع شیرانی سے عوام اور کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال نے 22 نکات پر مشتمل متفقہ قراردادیں پیش کیں۔جلسے کے آغاز میں 7 اکتوبر اور 11 اکتوبر کے تمام شہدا کو ان کی لازوال سیاسی و قومی قربانیوں پر زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھنے کا عزم دہرایا گیا۔سیاسی صورتحال، آئین اور جمہوریت:منظور کی گئی قراردادوں میں ملک میں آئین کی بحالی، جمہوریت، چوری شدہ عوامی مینڈیٹ کی واپسی اور عمران خان سمیت تمام سیاسی اسیران کی رہائی کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کی مکمل حمایت کی گئی۔ جلسے نے واضح خبردار کیا کہ خیبر پشتونخوا کی منتخب حکومت کے خلاف گورنر راج یا نیشنل ایمرجنسی جیسے کسی بھی غیر آئینی اقدام کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔قرارداد میں 8 فروری 2024 کے انتخابات کو رد کرتے ہوئے موجودہ حکومت کے خاتمے، فارم 47 کے ذریعے کی گئی 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کو منسوخ کرنے اور آزاد الیکشن کمیشن کے تحت نئے شفاف انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔ مزید برآں، یہ موقف بھی اپنایا گیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی مشاورت کے بغیر کوئی بھی سیاسی مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکتے۔امن و امان اور سویلین اختیارات:جلسہ عام نے پشتونخوا وطن میں مسلط کردہ بدامنی، دہشت گردی، ڈاکہ زنی اور حکومتی پراکسیز کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ ضلعی انتظامیہ اور کسٹم کے اختیارات ایف سی کے حوالے کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے تمام صوبے سے ایف سی کے انخلا اور سویلین اتھارٹی کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا۔تجارت، سرحدیں اور پاک-افغان تعلقات:قرارداد میں ڈیورنڈ لائن کے کراسنگ پوائنٹس پر تجارت کی بندش، پشتونوں کے شناختی کارڈز کی منسوخی اور تاجروں کے استحصال کو فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک کے مسائل پرامن بقائے باہمی کے سیاسی اصولوں اور افہام و تفہیم سے حل کرنے پر زور دیا گیا۔ژوب اور شیرانی کے مقامی مسائل و ترقیاتی منصوبے:جلسے نے مقامی سطح کے عوامی مسائل پر بھی تفصیل سے آواز اٹھائی اور درج ذیل مطالبات پیش کیے: * کوئٹہ تا ژوب اور ژوب تا ڈیرہ اسماعیل خان شاہراہوں پر بلا خوف و خطر آمدورفت اور سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے۔ * دھانہ سر کے مقام پر ایف سی اور کسٹمز کی چیک پوسٹوں پر عوام اور مسافروں کی بلاجواز ہراسانی اور تذلیل فوری بند کی جائے۔ * ژوب-ڈی آئی خان ہائی وے، ژوب-ٹانک روڈ اور نیو سبزی منڈی ژوب جیسے اہم منصوبوں کے لیے فوری فنڈز فراہم کیے جائیں۔ * قمرالدین کاریز کی تاریخی سرحدی گزرگاہ پر مقامی آبادی کے لیے تجارت اور آمدورفت بحال کی جائے۔* ضلع شیرانی میں بجلی کی ٹرانسمیشن لائن کی فوری بحالی اور تمام انتظامی دفاتر کو ژوب سے شیرانی منتقل کیا جائے۔* ژوب میں دانش اسکول کی تعمیر میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں اور شہر میں صفائی کا مستقل اور موثر نظام قائم کیا جائے۔ * اضلاع ژوب اور شیرانی میں تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات کی ابتر صورتحال کی فوری اصلاح کی جائے۔
