Uncategorized ۱۸ اکتوبر ۲۰۲۶

امریکی تعاون، پاکستان کی خودمختاری اور ماضی کے تجربات

تحریر: سید انور شاہ

پاکستان نے مختلف ادوار میں امریکہ کے ساتھ تعاون کیا، مگر اس تعاون کے نتائج ہمیشہ پاکستانی مفادات اور توقعات کے مطابق نہیں رہے۔ افغانستان کی جنگ اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں پاکستان کی شمولیت کے نتیجے میں ملک کو جانی و مالی نقصانات، بدامنی اور معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان تجربات سے یہ سبق ملتا ہے کہ عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات میں جذبات یا وقتی مراعات کے بجائے قومی مفادات کو بنیادی اہمیت دی جائے۔ پاکستان کو کسی بھی بین الاقوامی تعاون سے پہلے اس کے ممکنہ نتائج، علاقائی سلامتی پر اثرات اور مستقبل کے خطرات کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔
امریکی بحریہ کو پاکستانی سرزمین ایران کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دینے سے متعلق حالیہ دعوے کو وزارتِ اطلاعات و نشریات نے بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔ تاہم موجودہ صورتحال میں صرف تردید کافی نہیں؛ حکومت کو واضح اور دوٹوک سفارتی مؤقف اختیار کرنا چاہیے کہ پاکستان کی سرزمین، فضائی حدود اور سمندری حدود کسی دوسرے ملک کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت قومی سلامتی اور ملکی مفادات کے تقاضوں کے مطابق ہی زیرِ غور آ سکتی ہے۔ کسی غیر مصدقہ خبر کو حقیقت تسلیم کرنا درست نہیں، لیکن ایسے حساس معاملات میں پالیسی کی وضاحت اور شفافیت بھی ضروری ہے تاکہ افواہوں اور غلط فہمیوں کا خاتمہ ہو سکے۔
پاکستان کو اب ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے امریکہ سمیت تمام بڑی طاقتوں کے ساتھ تعلقات برابری، باہمی احترام اور واضح شرائط کی بنیاد پر استوار کرنے چاہییں۔ ایران ہمارا ہمسایہ ملک ہے اور اس کے ساتھ کشیدگی کے اثرات سرحدی تجارت، معیشت اور علاقائی امن پر پڑ سکتے ہیں۔ پاکستان کو کسی بیرونی تنازعے میں فریق بننے کے بجائے سفارت کاری، مذاکرات اور پُرامن حل کی حمایت کرنی چاہیے۔ قومی وقار کا تقاضا ہے کہ ملک اپنی خارجہ پالیسی کے فیصلے خود کرے، کسی بھی طاقت کے دباؤ میں قومی مفادات کو نظرانداز نہ کرے اور ہر تعاون کو پارلیمانی نگرانی اور قومی سلامتی کے اصولوں سے مشروط رکھے۔ دوستی اور تعاون اپنی جگہ، لیکن پاکستان کی خودمختاری اور عوام کے مفادات ہر صورت مقدم رہنے چاہییں۔