کوئٹہ(صداقت انٹرنیشنل ویب ڈیسک)جمعیت علما اسلام نظریاتی بلوچستان کے امیر مولانا عبدالقادر لونی، مرکزی کنوئینر مفتی شفیع الدین، صوبائی کنوئینر مولانا قاری مہراللہ، جنرل سیکرٹری مولانا عبدالاحد کبدانی، مرکزی ترجمان سید حاجی عبدالستار شاہ چشتی، سیکرٹری مالیات حاجی حیات اللہ، نائب امیر مفتی فدا الرحمن، جوائنٹ سیکرٹری میر مبارک محمد حسنی، مولانا شاہ محمد، مولانا عبدالسلام جتک، مولانا عبدالغفور کرخی، مفتی عبدالناصر، شیرجان صالح، مجاہد دشتی، صوبائی ترجمان مولانا رحمت اللہ حقانی، سیکرٹری مالیات مولانا عبدالواحد ہاشمی اور صدر جمعیت طلبا عبدالرحیم صبا نے سول ہسپتال میں ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب پھینکنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ قائدین نے اس دلخراش و انسانیت سوز واقعے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر انسانی، بزدلانہ اور اسلام و قبائلی روایات کے منافی عمل قرار دیا اور کہا کہ عورت پر تیزاب پھینکنا صرف ناقابلِ معافی جرم ہی نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی اقدار، قبائلی روایات اور تہذیب پر کھلا وار ہے، جو درندگی اور جہالت کی بدترین مثال ہے اور ایسا کرنے والے شرپسند عناصر انسان کہلانے کے لائق نہیں۔جے یو آئی نظریاتی کے رہنماں نے صوبائی حکومت اور سیکیورٹی اقدامات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عوام کو تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور آئے روز دہشت گردی و بدامنی کے واقعات حکومتی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ انہوں نے ملزم کی ہلاکت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر ملزم کے پاس صرف ایک پستول تھا تو پولیس اسے زندہ گرفتار کیوں نہیں کر سکی؟ اس مبینہ مقابلے سے ضرور کئی سوالات جنم لیتے ہیں کیونکہ حکومت کے اقدامات صرف مذمتی بیانات تک محدود رہ چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بدامنی کے تسلسل سے عوام شدید اضطراب اور بے چینی کی کیفیت سے دوچار ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے، جس کی وجہ سے بلوچستان عملا جنگل کے معاشرے کی عکاسی کر رہا ہے جہاں عوام کے تحفظ کی بجائے حکومت اپنے بچا کے پیچھے پڑی ہے، جبکہ بڑے بڑے دیواروں اور باڑ لگانے سے امن قائم نہیں ہو سکتا۔
