چین اور پاکستان کے تعلقات کو صرف روایتی دوستی کے زاویے سے دیکھنے کے بجائے بدلتی ہوئی عالمی معیشت، علاقائی رابطہ کاری اور چین کے بڑھتے ہوئے متبادل راستوں کے تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اور چین نے مئی 2026ء میں ایک بار پھر سی پیک 2.0، گوادر کو علاقائی رابطہ مرکز بنانے، خنجراب کے ذریعے زمینی رابطے مضبوط کرنے اور مختلف شعبوں میں تعاون آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ چین نے پاکستان کو نظرانداز کردیا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ چین اپنی تجارت، توانائی اور عالمی رسد کے لیے ایک سے زیادہ راستے پیدا کر رہا ہے۔ یہی وہ بنیادی تبدیلی ہے جس پر پاکستان کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔
چین کی حکمتِ عملی کو دیکھا جائے تو گوادر اس کے لیے اہم ضرور ہے، مگر واحد راستہ نہیں۔ چین کے جنوب مغربی حصے سے میانمار کے راستے خلیج بنگال تک رسائی، کیاؤک پیو سے چین تک تیل و گیس کی پائپ لائنیں، بحر ہند کے مختلف بندرگاہی مراکز اور مشرقی ایشیا سے افریقہ تک سمندری راستے اس وسیع جغرافیائی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔ اسی طرح افغانستان کا وخان راستہ مستقبل میں چین کو افغانستان اور وسطی ایشیا سے جوڑنے کی ایک ممکنہ راہداری بن سکتا ہے، اگرچہ اسے ابھی مکمل اور بڑے پیمانے کی بین الاقوامی تجارتی راہداری قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
یہاں ایک اہم سوال پاکستان کے فکری اور تزویراتی حلقوں میں زیرِ بحث آسکتا ہے: کیا چین نے پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات کے ذریعے صرف پاکستان کو معاشی فائدہ نہیں دیا بلکہ بھارت کو بھی چین کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنانے اور اپنے راستے، منڈیاں اور رابطے زیادہ کھولنے کی طرف دھکیلا ہے؟ اس مفروضے کو ثابت شدہ چینی حکمتِ عملی قرار دینا درست نہیں ہوگا، لیکن موجودہ پیش رفت اس سوال کو نظرانداز کرنے کی اجازت بھی نہیں دیتی۔ چین اور بھارت نے 2025ء سے تعلقات میں بتدریج بہتری کی طرف قدم بڑھائے، براہِ راست پروازوں کی بحالی، تجارت و سرمایہ کاری کے بہاؤ میں سہولت اور سرحدی تجارت کے فروغ پر اتفاق کیا، جبکہ اگست 2026ء میں دونوں ممالک نے مزید سرحدی رابطوں اور تجارت کے لیے عملی اقدامات پر اتفاق کیا۔
اس زاویے سے دیکھا جائے تو پاکستان کے لیے اصل تشویش صرف یہ نہیں ہونی چاہیے کہ بھارت چین کے قریب آ رہا ہے یا نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ اگر بھارت اپنی ریلوے، سڑکوں، بندرگاہوں، صنعتی مراکز اور وسیع منڈی کو چین کے لیے زیادہ قابلِ رسائی بناتا ہے تو چین کے پاس پاکستان کے علاوہ ایک اور بہت بڑا معاشی جغرافیہ موجود ہوسکتا ہے۔ بھارت دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہے اور اس کی وسیع داخلی منڈی، بندرگاہیں اور بنیادی ڈھانچہ چین کے لیے طویل مدت میں اہم تجارتی مواقع پیدا کرسکتے ہیں۔ اگست 2026ء کے مذاکرات میں دونوں ممالک نے تجارت اور سرمایہ کاری کے بہاؤ کو آسان بنانے پر اتفاق بھی کیا ہے۔
یہاں پاکستان کے لیے ایک اور تلخ مگر ضروری سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر بھارت اور چین اپنے اختلافات کو مکمل طور پر ختم نہ بھی کریں، لیکن انہیں معاشی تعاون کے راستے میں رکاوٹ نہ بننے دیں، تو کیا پاکستان کے لیے چین کا وہ خصوصی جغرافیائی انحصار برقرار رہے گا جس کی امید سی پیک کے ابتدائی تصور میں رکھی گئی تھی؟ پاکستان میں ایک فکری حلقہ یہ مؤقف رکھ سکتا ہے کہ چین نے پاکستان کے ساتھ شراکت داری کو بھارت کے ساتھ اپنے وسیع تر تعلقات کے لیے ایک دباؤ، متبادل یا توازن کے عنصر کے طور پر بھی استعمال کیا ہو؛ لیکن اس کے برعکس یہ بھی ممکن ہے کہ چین اب بھارت کے ساتھ کشیدگی کم کرکے دنیا کی سب سے بڑی منڈیوں میں سے ایک کے ساتھ براہِ راست اقتصادی مواقع حاصل کرنے کو زیادہ اہم سمجھ رہا ہو۔ دستیاب شواہد اس وقت دونوں ممالک کے درمیان مکمل تزویراتی مفاہمت ثابت نہیں کرتے، بلکہ محتاط معمول پر آنے اور اقتصادی روابط بڑھانے کا رجحان دکھاتے ہیں۔
آبِنائے ہرمز اس بحث کا ایک اور اہم پہلو ہے۔ گوادر کی تزویراتی کشش کا ایک بنیادی سبب اس کا ہرمز کے قریب ہونا تھا۔ لیکن اب چین ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عمان اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ براہِ راست سفارتی و معاشی روابط بڑھا رہا ہے۔ مارچ 2026ء میں چین اور پاکستان نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کی بحالی پر زور دیا، جبکہ اسی سال چین نے مشرق وسطیٰ کے بحران میں پاکستان کے کردار کو بھی اہم قرار دیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی اہمیت ختم نہیں ہوئی، لیکن چین کے پاس خلیج میں اپنے مفادات کے لیے دوسرے سفارتی اور معاشی راستے بھی بڑھ رہے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کا معاملہ بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ دبئی کی جبیل علی بندرگاہ عالمی تجارت کا ایک بڑا مرکز ہے، جبکہ گوادر کے ابھرنے کو بعض مطالعات نے خلیج کے موجودہ بندرگاہی مراکز کے لیے ممکنہ مسابقت کے تناظر میں دیکھا ہے۔ دوسری طرف چین نے متحدہ عرب امارات میں بھی اپنی بندرگاہی اور تجارتی موجودگی قائم کی ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ متحدہ عرب امارات نے صرف گوادر کو روکنے کے لیے چین کی مخالفت کی، دستیاب شواہد سے ثابت شدہ نتیجہ نہیں؛ البتہ یہ حقیقت قابلِ توجہ ہے کہ خلیج، بحر ہند، بحیرہ احمر اور افریقہ کے بندرگاہی نیٹ ورک میں چین اور متحدہ عرب امارات کے معاشی مفادات بعض مقامات پر مقابل بھی کرتے ہیں اور بعض مقامات پر ایک دوسرے سے جڑتے بھی ہیں۔
جبوتی اس بدلتی ہوئی تصویر کی ایک اہم مثال ہے۔ چین نے وہاں بندرگاہی و لاجسٹک موجودگی کے ساتھ اپنی بیرونِ ملک فوجی موجودگی بھی قائم کی ہے۔ بحیرہ احمر، خلیج عدن اور افریقہ کے سنگم پر واقع جبوتی چین کو مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے درمیان اپنی بحری موجودگی بڑھانے کا ایک اہم مقام فراہم کرتا ہے۔ اس طرح چین کے لیے پاکستان اور گوادر اہم رہتے ہوئے بھی واحد راستہ نہیں رہتے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں موجود اس فکری بحث کو سنجیدگی سے لینا چاہیے کہ چین کی دوستی اپنی جگہ، لیکن چین کی خارجہ اور معاشی پالیسی بالآخر چین کے قومی مفادات سے وابستہ ہے۔ ریاستیں مستقل دوست یا دشمن سے زیادہ مستقل مفادات رکھتی ہیں۔ اگر کسی راستے سے کم وقت، کم لاگت، زیادہ سلامتی اور زیادہ منافع حاصل ہو تو ایک بڑی معاشی طاقت اس راستے کو اختیار کرنے کی کوشش کرے گی۔ اس لیے یہ اصول کہ “چین کو جہاں آسانی ہوگی، وہیں سے اس کا گزر ہوگا” پاکستان مخالف سوچ نہیں بلکہ پاکستان کے لیے حقیقت پسندانہ پالیسی کا نقطۂ آغاز ہوسکتا ہے۔
لیکن اسی بحث کا دوسرا پہلو بھی اتنا ہی اہم ہے: ممکن ہے چین پاکستان کو صرف ایک منزل کے طور پر نہیں بلکہ اپنے وسیع تر ایشیائی جغرافیائی کھیل کے ایک اہم حصے کے طور پر استعمال کر رہا ہو۔ پاکستان کے ذریعے چین نے وسطی اور جنوبی ایشیا میں اپنی موجودگی مضبوط کی، بھارت کے ساتھ طاقت کے توازن میں ایک اہم علاقائی حقیقت کو برقرار رکھا اور گوادر کے ذریعے خلیج کے قریب ایک متبادل بحری راستہ پیدا کیا۔ اگر مستقبل میں بھارت کے ساتھ چین کے تعلقات مزید بہتر ہوتے ہیں تو یہ ممکن ہے کہ چین اپنی ضروریات کے لیے بھارت کی وسیع منڈی، سڑکوں، ریلوے، بندرگاہوں اور دیگر تجارتی ڈھانچے سے بھی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے۔ یہ امکان پاکستان کے لیے خطرے کی پیش گوئی نہیں بلکہ اپنی موجودہ حکمتِ عملی پر نظرثانی کا تقاضا ہے۔
اسی طرح ایم ایل ون بھی ایک علامت بن سکتا ہے۔ 2026ء میں منصوبے کی مالی معاونت کے حوالے سے چین کے ساتھ مذاکرات، ایشیائی ترقیاتی بینک کی شمولیت اور مختلف مالیاتی ذرائع پر غور سامنے آیا۔ اس لیے اسے سادہ الفاظ میں “چین نے انکار کردیا” کہنا درست نہیں، لیکن یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کو بڑے منصوبوں کے لیے ایک ہی بیرونی ذریعے پر انحصار کے بجائے متعدد مالیاتی ذرائع تلاش کرنا پڑ رہے ہیں۔ یہی تبدیلی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ سی پیک کا اگلا مرحلہ صرف اعلانات سے نہیں بلکہ حقیقی معاشی پیداوار، صنعتی سرمایہ کاری، برآمدات اور قابلِ اعتماد بنیادی ڈھانچے سے کامیاب ہوگا۔
پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ نہیں کہ چین پاکستان کا کتنا قریب ہے یا بھارت کے کتنا قریب ہوسکتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان خود چین، بھارت، وسطی ایشیا، افغانستان، ایران اور خلیج کے درمیان اپنی معاشی جگہ کو کتنا مضبوط بنا سکتا ہے۔ اگر پاکستان اپنی بندرگاہوں کو فعال نہیں کرتا، ریل اور سڑک کے نظام کو جدید نہیں بناتا، صنعتی پیداوار اور برآمدات نہیں بڑھاتا، بلوچستان میں امن اور مقامی معاشی شراکت کو یقینی نہیں بناتا اور سرمایہ کار کو طویل المدت پالیسی کا اعتماد نہیں دیتا تو صرف جغرافیہ پاکستان کو اہم نہیں رکھ سکتا۔
پاکستان کے پاس اب بھی ایک غیر معمولی جغرافیائی موقع موجود ہے۔ گوادر خلیج کے قریب ہے، چین سے زمینی رابطہ رکھتا ہے، افغانستان اور وسطی ایشیا کے قریب ہے اور بحر ہند سے جڑا ہوا ہے۔ مگر جغرافیہ صرف نقشے پر طاقت ہوتا ہے؛ اسے معاشی طاقت امن، انفراسٹرکچر، صنعت، تجارت اور قابلِ اعتماد حکمرانی بناتے ہیں۔
آخرکار مسئلہ یہ نہیں کہ چین پاکستان کو چھوڑ رہا ہے یا بھارت کے قریب جا رہا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ چین کے پاس متبادل راستے بڑھ رہے ہیں، جبکہ پاکستان کو اپنے راستے کی اہمیت بڑھانے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔ اگر چین بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرتا ہے، ایران اور خلیج میں اپنی موجودگی بڑھاتا ہے، میانمار اور بحر ہند کے راستے استعمال کرتا ہے اور افریقہ تک اپنے بحری نیٹ ورک کو وسعت دیتا ہے تو پاکستان کے لیے مقابلہ ختم نہیں بلکہ مزید سنجیدہ ہوجاتا ہے۔ اس مقابلے کا جواب چین سے شکایت نہیں، بلکہ پاکستان کی اپنی معاشی طاقت ہے۔
پاکستان کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ گوادر صرف ایک بندرگاہ نہیں، پاکستان صرف ایک زمینی راستہ نہیں اور سی پیک صرف ایک منصوبہ نہیں؛ بلکہ یہ پورا جغرافیہ چین اور دنیا کے لیے ایسا معاشی راستہ ہے جسے نظرانداز کرنے کی قیمت دوسرے متبادل راستوں سے زیادہ ہوسکتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں دوستی سے آگے بڑھ کر مفاد، جغرافیے سے آگے بڑھ کر معیشت، اور وعدوں سے آگے بڑھ کر عملی کارکردگی پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔
