ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹوں کے قیام، این ایف سی کے ممکنہ نئے فارمولے، اسلام آباد کے انتظامی مستقبل سے متعلق تجاویز اور بعض علاقوں میں امن و امان کی صورتحال ایک ہی عرصے میں زیرِ بحث ہیں۔ ایسے ماحول میں سیاسی بیانات بھی غیر معمولی توجہ حاصل کرتے ہیں۔ اسی تناظر میں پشتونخوا کے سیاسی رہنما جنید اکبر کی جانب سے اسلام آباد کو ’’سومنات‘‘ بنانے کا استعارہ سامنے آیا، جس پر خواجہ آصف اور طلال چوہدری کی جانب سے سخت ردعمل دیا گیا۔ ان مختلف پیش رفتوں کو ایک ہی منصوبے کا حصہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا، تاہم یہ ضرور ضروری ہے کہ انتظامی، مالی اور آئینی نوعیت کی کسی بھی تجویز کے بارے میں حکومت اپنا مؤقف واضح کرے تاکہ عوامی سطح پر پیدا ہونے والے سوالات کا جواب سیاسی اور پارلیمانی مکالمے کے ذریعے دیا جا سکے۔
’’سومنات‘‘ کے تاریخی حوالے کو بھی اسی احتیاط کے ساتھ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ محمود غزنوی گیارہویں صدی کے ایک اہم حکمران تھے، جن کی سلطنت کا مرکز غزنی تھا اور جنہوں نے برصغیر کی جانب متعدد فوجی مہمات کیں۔ 1025-26ء کی سومنات مہم ان کے معروف تاریخی واقعات میں شامل ہے۔ روایتی بیانیے میں ہندوستان کی سترہ مہمات کا ذکر ملتا ہے، جبکہ سومنات کی مورت یا اس کے بعض حصوں کو غزنی لے جانے کا ذکر بھی بعض بعد کے ماخذ میں موجود ہے؛ تاہم اسے کابل لے جانے یا سومنات کے اصل دروازوں کے غزنی منتقل ہونے کو قطعی تاریخی حقیقت کے طور پر بیان کرنا محتاط طرزِ تاریخ نویسی نہیں ہوگا۔ اسی طرح سومنات کی مہم کو صرف مذہبی کشمکش کے عنوان سے بیان کرنے کے بجائے اس دور کے سیاسی، فوجی اور معاشی حالات کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔
اسلام آباد ایک جدید آئینی ریاست کا وفاقی دارالحکومت ہے، اس لیے اسے سومنات سے تشبیہ دینا بہرحال ایک سیاسی استعارہ ہی سمجھا جانا چاہیے۔ ممکن ہے جنید اکبر کی مراد مسلسل سیاسی جدوجہد اور بار بار پیش قدمی کے ذریعے اپنے مقصد کے حصول کا تصور بیان کرنا ہو، تاہم ایسے تاریخی استعارے مختلف حلقوں میں مختلف مفاہیم پیدا کر سکتے ہیں۔ اسی طرح حکومتی وزراء کے لیے بھی زیادہ مفید طرزِ عمل یہ ہو سکتا تھا کہ اس بیان کو مزید سخت سیاسی بحث میں تبدیل کرنے کے بجائے مختصر، سنجیدہ اور تاریخی شعور پر مبنی جواب دیا جاتا کہ محمود غزنوی کا دور تاریخ کا حصہ ہے، جبکہ آج کے پاکستان میں سیاسی اختلاف اور تبدیلی کا راستہ آئین، پارلیمان، انتخابات اور مکالمے سے گزرتا ہے۔ اس معاملے کو کسی بڑے تصادم کی علامت بنانے کے بجائے ایک سیاسی محاورے کی حد تک رکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔ اصل توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ پاکستان کے انتظامی ڈھانچے، وسائل کی تقسیم، امن و امان اور وفاق و صوبوں کے تعلقات سے متعلق فیصلے شفاف، آئینی اور وسیع سیاسی مشاورت کے ذریعے ہوں۔ *تاریخ اپنے مقام پر محترم ہے، سیاست اپنے دائرے میں؛ اور پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ جذباتی نعروں کے بجائے آئین، دلیل، مکالمے اور عوامی رضامندی سے ہونا چاہیے۔
