اداریہ ۲۳ ستمبر ۲۰۲۶

سیاست کو دشنام نہیں، تدبر کی ضرورت ہے۔

پاکستان کا موجودہ سیاسی منظرنامہ جمہوری شعور، سیاسی مکالمے اور اختلافِ رائے کے بجائے الزام تراشی اور دشنام طرازی کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ خصوصاً پنجاب اور خیبرپختونخوا کی حکومتوں کے درمیان حالیہ بیانات نے معاملے کو محض جماعتی اختلاف سے نکال کر بین الصوبائی حساسیت تک پہنچا دیا ہے۔ پنجاب کے بعض بیانات پر پشتونوں کے حوالے سے اعتراضات سامنے آئے، جبکہ خیبرپختونخوا کی جانب سے بھی جواب میں سخت اور بعض اوقات ذاتی نوعیت کی زبان استعمال ہوئی۔ حالیہ دنوں میں دونوں صوبوں کے وزرائے اطلاعات کے درمیان لفظی جنگ اور ایک دوسرے پر الزامات اسی بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ اختلافِ سیاست اپنی جگہ، لیکن پاکستان جیسی وفاقی ریاست میں کسی قوم، صوبے یا لسانی گروہ کے بارے میں تحقیر آمیز زبان صرف ایک سیاسی مخالف کو نہیں بلکہ باہمی اعتماد اور وفاقی رشتے کو متاثر کرتی ہے۔

27 ستمبر کی مجوزہ تحریک نے اس کشمکش کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت اور تحریک انصاف اسے سیاسی و آئینی جدوجہد قرار دے رہی ہیں اور صوبائی وزیر اطلاعات کے مطابق 27 ستمبر کا لانگ مارچ موجودہ طرزِ حکمرانی کے خلاف عوامی ریفرنڈم ہوگا، جبکہ وفاقی اور پنجاب حکومت کی طرف سے اسے روکنے کے لیے انتظامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس صورت حال میں ایک عجیب تضاد بھی دکھائی دیتا ہے: ایک طرف خیبرپختونخوا کی قیادت سخت زبان اور مسلسل محاذ آرائی کے ذریعے اپنی تحریک کا سیاسی ماحول خود مشکل بنا رہی ہے، دوسری طرف حکومتی اقدامات اور بعض سخت بیانات بسا اوقات اسی تحریک کو مزید سیاسی توانائی فراہم کرتے محسوس ہوتے ہیں۔ اس کشمکش کا اصل فائدہ کس کو پہنچتا ہے، اس بارے میں قیاس آرائی کے بجائے سیاسی قیادت کو یہ سوال ضرور اپنے سامنے رکھنا چاہیے کہ کیا موجودہ طرزِ سیاست وفاق کی اکائیوں کو قریب لا رہا ہے یا ایک دوسرے سے دور؟ تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ 1971 کے بحران میں بھی سیاسی مذاکرات، اقتدار کی منتقلی اور باہمی اعتماد کے سوالات حل نہ ہونے سے حالات انتہائی سنگین ہوئے؛ خان عبدالولی خان سمیت بعض سیاسی رہنماؤں نے اس وقت مذاکرات اور سیاسی حل کی کوششیں کیں، مگر بحران کو روکا نہ جا سکا۔

آج پاکستان کو اسی تاریخ سے سبق لینے کی ضرورت ہے، نہ کہ اسے ایک دوسرے کو طعنے دینے کے لیے استعمال کرنے کی۔ خیبرپختونخوا، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور وفاق—سب ایک ہی آئینی وفاق کی اکائیاں ہیں؛ کسی ایک صوبے کی تضحیک دوسرے صوبے کی فتح نہیں ہوسکتی۔ 27 ستمبر ہو یا اس کے بعد کا کوئی بھی سیاسی مرحلہ، احتجاج کا حق آئینی دائرے میں اور ریاستی ردعمل قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ ذاتی حملوں، نسلی و صوبائی طعنوں اور اشتعال انگیز بیانات سے پیچھے ہٹ کر مذاکرات کا دروازہ کھولیں؛ وفاقی حکومت کو تمام صوبوں کے منتخب نمائندوں کے ساتھ برابر کا سیاسی برتاؤ یقینی بنانا چاہیے اور خیبرپختونخوا کی قیادت کو بھی یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ احتجاج کے ساتھ ساتھ سیاسی مفاہمت اور وفاقی ذمہ داری کو بھی اہمیت دیتی ہے۔ پاکستان کے مسائل کا حل سڑک، طاقت یا دشنام میں نہیں بلکہ پارلیمان، آئین، مذاکرات اور سیاسی تدبر میں ہے۔ **اختلاف رہے، مگر وفاق محفوظ رہے؛ سیاست سخت ہو سکتی ہے، زبان نہیں۔