مکہ معاہدے کے بعد ایران کے بعض تحفظات کے باوجود پاکستان نے محاذ آرائی کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کیا ہے۔ نیویارک میں وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی ملاقات میں وزیراعظم نے واضح کیا کہ مکہ اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ علاقائی امن اور استحکام کے لیے ہے۔ یہ وضاحت دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کے خاتمے کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔
تاہم پاکستان کو یہ اصولی بات بھی واضح کرنی چاہیے کہ وہ ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے اور اسے اپنی قومی سلامتی اور علاقائی مفادات کے مطابق معاہدے کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔ یہاں مئی 2025 کی پاک بھارت کشیدگی کا حوالہ بھی اہم ہے۔ عین اس بحران کے دوران 5 مئی کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی پاکستان آئے، صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی اور ایران نے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے پر زور دیا۔ بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی قیادت کی ان سفارتی کوششوں پر باقاعدہ شکریہ بھی ادا کیا۔
پاک ایران تعلقات دونوں ملکوں کی مشترکہ سرحد، تاریخ، مذہب اور معاشی مفادات سے جڑے ہیں۔ اسی لیے مکہ معاہدے یا پاکستان کی کسی دوسری علاقائی شراکت داری پر تحفظات ہوں تو ان کا حل پراکسی سرگرمیوں یا بالواسطہ دباؤ کے بجائے براہِ راست سفارتی مکالمے میں ہونا چاہیے۔ پاکستان کو بھی ایران کے جائز خدشات سننے چاہئیں، لیکن اپنی خودمختار خارجہ پالیسی کے فیصلوں پر وضاحت دینا اور انہیں کسی تیسرے ملک کے خلاف قرار نہ دینا کافی ہے۔ خطے کی موجودہ کشیدگی میں دونوں ممالک کے لیے بہتر راستہ یہی ہے کہ باہمی اعتماد، سرحدی سلامتی، تجارت اور علاقائی امن کے لیے مستقل رابطہ برقرار رکھا جائے۔
