کوئٹہ (ویب نیوز) چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کانفرنس منعقد ہوئی جس میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں، انتظامی امور، عوامی سہولیات، پرائس کنٹرول، میونسپل سروسز اور مختلف حکومتی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں مکمل شدہ ترقیاتی اسکیموں کی نگرانی اور جائزہ رپورٹ پر غور کیا گیا جبکہ بلوچستان سوشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو کے تحت تیسرے مرحلے کے ترقیاتی منصوبوں کی ٹینڈرنگ کا عمل جاری ہونے سے بھی آگاہ کیا گیا۔ چیف سیکرٹری نے افسران کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں کے معیار، رفتار اور عوامی افادیت کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدگی سے نگرانی کی جائے۔ اجلاس میں غیر قانونی غیر ملکیوں کی وطن واپسی پر پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا گیا کہ 11 لاکھ سے زائد غیر قانونی تارکین وطن کو واپس بھجوایا جا چکا ہے۔ غیر قانونی چیک پوسٹوں کے خاتمے کے حوالے سے چیف سیکرٹری نے ضلعی انتظامیہ کو مؤثر کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں اور نقل و حمل میں غیر ضروری رکاوٹیں پیدا نہ کی جائیں۔ انہوں نے کھلی کچہریوں کو عوام اور انتظامیہ کے درمیان براہ راست رابطے کا مؤثر ذریعہ قرار دیتے ہوئے شکایات کے عملی حل پر زور دیا۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے جائزے کے دوران ہدایت کی گئی کہ سرکاری نرخوں پر اشیائے خورونوش کی فروخت یقینی بنائی جائے اور ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور گراں فروشی کے خلاف کارروائی میں کوئی کوتاہی نہ کی جائے۔ چیف سیکرٹری نے صوبائی محصولات میں اضافے، ٹیکس نیٹ وسیع کرنے اور ریونیو وصولی میں شفافیت یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے میونسپل سروسز اور صفائی کے نظام کو بہتر بنانے، کچرے کی بروقت صفائی، سیوریج اور نکاسی آب کے نظام کو مؤثر بنانے اور عملے کی جوابدہی یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی کا بنیادی معیار عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور ان کے مسائل کا بروقت حل ہے۔
