اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندہ صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل کے غیر رسمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلح تنازعات کے دوران ہسپتالوں، طبی عملے اور طبی سہولیات کا تحفظ یقینی بنانا عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جنگوں اور تنازعات کا حل اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن طریقے سے نکالا جانا چاہیے تاکہ انسانی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال علاج کے مراکز رہنے چاہئیں نہ کہ حملوں کا نشانہ، جبکہ ڈاکٹرز اور نرسوں کو ہر حال میں انسانی خدمت کا موقع ملنا چاہیے۔ اجلاس میں قرارداد 2286 کی دسویں سالگرہ کے موقع پر طبی مراکز پر حملوں کی مذمت کی گئی اور پاکستان نے حفاظتی پروٹوکول، رسک اسیسمنٹ، تحقیقات اور بین الاقوامی انسانی قانون پر مکمل عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔
