پاکستان ۲۲ مئی ۲۰۲۶

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے میں عوامی اور تعلیمی روابط کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں،وزیرِ مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت

اسلام آباد(ڈیلی صداقت انٹرنیشنل) وزیرِ مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیمی تعاون کو خطے میں علمی روابط کی ایک نئی مثال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کیدرمیان تعلقات کو فروغ دینے میں عوامی اور تعلیمی روابط کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ بنگلہ دیشی وفد کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیمی تعاون کو مزید نئی بلندیوں تک لے جایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بنگلہ دیش نالج کوریڈور دونوں برادر ممالک کے درمیان علمی، تحقیقی اور ثقافتی روابط کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیرِ مملکت نے کہا کہ صرف 6 ماہ میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلیمی تعلقات میں غیر معمولی پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بنگلہ دیش کے چار مختلف شہروں میں منعقدہ پاکستانی جامعات کی ہائر ایجوکیشن ایکسپو کو شاندار پذیرائی حاصل ہوئی جبکہ آئندہ ہائر ایجوکیشن ایکسپو میں پاکستان کی 20 جامعات شرکت کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی جامعات کی جانب سے پیش کی گئی 500 مکمل سکالرشپس کے لیے 1400 سے زائد بنگلہ دیشی طلبہ نے درخواستیں جمع کرائی ہیں جبکہ 74 بنگلہ دیشی طلبہ پاکستان پہنچ کر مختلف جامعات میں زیرِ تعلیم ہیں۔ وجیہہ قمر نے بتایا کہ بنگلہ دیش کے سینئر سول سرونٹس اس وقت لاہور میں ایگزیکٹو لیڈرشپ ٹریننگ پروگرام مکمل کر رہے ہیں جو دونوں ممالک کے ادارہ جاتی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے بنگلہ دیشی طلبہ کے لیے دوسرے مرحلے میں مکمل فنڈڈ سکالرشپس کا بھی اعلان کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ تحقیق، فیکلٹی ایکسچینج پروگرامز اور ڈیجیٹل لرننگ کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔ وزیرِ مملکت نے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کی جامعات جنوبی ایشیا میں تعلیمی تعاون کی نئی مثال قائم کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی روابط ہی قوموں کے تعلقات کو مضبوط، پائیدار اور دیرپا بناتے ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کی دوستی مستقبل میں مزید مستحکم ہوگی اور دونوں ممالک تعلیم، تحقیق اور نوجوانوں کی ترقی کے شعبوں میں مل کر آگے بڑھیں گے۔