(صداقت ویب)
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے پاکستان میں انفرااسٹرکچر رسک اسیسمنٹ رپورٹ جاری کرتے ہوئے ملک کے انفرااسٹرکچر نظام میں موجود گورننس کی کمزوریوں کو اجاگر کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے انفرااسٹرکچر گورننس کے حوالے سے ایک مضبوط نظام تو قائم کر لیا ہے، تاہم عملی نفاذ کے مرحلے میں متعدد مسائل اور خامیاں اب بھی موجود ہیں۔ ادارے نے پاکستان کو انفرااسٹرکچر شفافیت کے حوالے سے 10 میں سے 6.34 نمبر دیتے ہوئے اسے ہائی رسک کیٹیگری میں شامل کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انفرااسٹرکچر منصوبوں کی منصوبہ بندی، منظوری، اجازت ناموں کے اجرا اور عملی نفاذ کے مراحل میں گورننس کی کمزوریاں سامنے آنے کا خدشہ برقرار رہتا ہے، جس کے باعث شفافیت اور مؤثر نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
