پاکستان ۱۷ مئی ۲۰۲۶

پاکستان، اقوام متحدہ کے ادارے کا موسمیاتی خطرات سے محفوظ شہروں کیلئے قومی شہری حکمتِ عملی پر مشاورتی عمل شروع

اسلام آباد(صداقت انٹرنیشنل)وفاقی حکومت اور اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے نے ملک میں موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے خطرات سے نمٹنے اور شہروں کو زیادہ محفوظ اور پائیدار بنانے کیلئے پہلی قومی شہری حکمتِ عملی کی تیاری کا مشاورتی عمل شروع کر دیا ہے۔اتوار کو وزارت موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی ہم آہنگی سے جاری بیان کے مطابق اسلام آباد میں وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ اور اقوامِ متحدہ کے ادارے کے اشتراک سے منعقدہ اعلی سطحی قومی اجلاس میں وفاقی و صوبائی حکام، آفات سے نمٹنے والے اداروں، شہری منصوبہ بندی کے ماہرین، ترقیاتی ماہرین اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی عائشہ حمیرا موریانی نے خبردار کیا کہ پاکستان کے شہر تیزی سے موسمیاتی خطرات کے مراکز بنتے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے شہر شدید گرمی، شہری سیلاب اور پانی کی قلت والے علاقوں میں تبدیل ہو رہے ہیں کیونکہ شہری منصوبہ بندی میں موسمیاتی خطرات کو کبھی شامل ہی نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ملک کی 36 فیصد سے زائد آبادی پہلے ہی شہری علاقوں میں رہ رہی ہے جبکہ آئندہ دو دہائیوں میں نصف سے زیادہ پاکستانی شہروں میں آباد ہوں گے۔وفاقی وزارت موسمیاتی تبدیلی و ہم آہنگی کے سینئر جوائنٹ سیکرٹری محمد اعجاز غنی نیسوات سیلاب، اسلام آباد کے ای۔11 سیکٹر اور رہائشی علاقے کیزیرِگزر راستے میں پیش آنے والے حادثات کو ناقص شہری منصوبہ بندی کا نتیجہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ سوات سانحہ محض قدرتی آفت نہیں تھا بلکہ غیر منصوبہ بندی، غیر قانونی اور اندھی تعمیرات کا نتیجہ تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کا نکاسیِ آب کا نظام معمولی بارش برداشت کرنے کے قابل بھی نہیں رہاجس کے باعث ہر سال قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔اقوامِ متحدہ کے زیلی ادارے یو این ہبیٹاٹ پاکستان کے موسمیاتی ماہر خلیل احمد نے کہا کہ تیز رفتار شہری آبادی، کمزور نکاسیِ آب کے نظام اور ماحولیاتی قوانین پرناقص عملدرآمد نے پاکستانی شہروں کو سیلاب، خشک سالی اور شدید گرمی کی لہروں کیلئے زیادہ غیر محفوظ بنا دیا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان اب الگ الگ نہیں بلکہ مسلسل اور باہم جڑے موسمیاتی بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے۔وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے ڈپٹی ڈائریکٹر و ترجمان محمد سلیم شیخ نے کہا کہ موسمیاتی لحاظ سے محفوظ شہر صرف پالیسیوں سے نہیں بلکہ عوامی شعور، مقامی آبادی کی شمولیت اور مسلسل ماحولیاتی آگاہی مہمات سے ہی ممکن ہیں۔اجلاس میں ماحول دوست تعمیراتی ضابطوں، موسمیاتی موافق شہری منصوبہ بندی اور سیلاب سے محفوظ بنیادی ڈھانچے کیلئے مثر حکمتِ عملی مرتب کرنے پر زور دیا گیا۔