مقامی ۱۹ مئی ۲۰۲۶

وائی ڈی اے کی جانب سے باچا خان ہسپتال کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت چلانے کی تجویز یکسر مسترد

کوئٹہ (ڈیلی صداقت انٹرنیشنل) ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائی ڈی اے)بلوچستان کے ترجمان ڈاکٹر ثنا اللہ بلوچ نے اپنے ایک جاری کردہ بیان میں صوبائی حکومت کی جانب سے کوئٹہ کے نو تعمیر شدہ باچا خان ہسپتال کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت چلانے کی تجویز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے حکومت سے صحت کے شعبے میں واضح پالیسی پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان محکمہ صحت کی پالیسیاں مرتب کرنے میں واضح طور پر تذبذب کا شکار دکھائی دے رہی ہے اور صوبے میں اس وقت سرکاری ہسپتالوں کا نظام چلانے کے لیے بیک وقت متعدد متضاد پالیسیاں اپنائی گئی ہیں، جو مریضوں اور ہیلتھ سیکٹر سے منسلک ملازمین کے لیے شدید مشکلات اور پریشانی کا سبب بن رہی ہیں۔ترجمان وائی ڈی اے کا کہنا تھا کہ حکومت ایک ہی وقت میں ہسپتالوں کو چلانے کے لیے مکمل سرکاری، سیمی اٹانمس، اٹانمس اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ جیسے مختلف تجربات کر رہی ہے، جس سے یہ صاف واضح ہوتا ہے کہ محکمہ صحت کو چلانے کے لیے حکومتی سطح پر کسی جامع حکمتِ عملی کا فقدان ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ حکومت ایک طرف ٹراما سینٹر کوئٹہ اور بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (BICVD) جیسے بڑے منصوبوں پر سالانہ 6 ارب روپے یا اس سے زائد کے اخراجات خود برداشت کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے اور انہیں اٹانمس باڈیز کے طرز پر “گرانٹ ان ایڈ” دے کر چلا رہی ہے، لیکن دوسری جانب کوئٹہ شہر کے وسط میں اربوں روپے کی لاگت سے نو تعمیر شدہ باچا خان ہسپتال کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت نجی تحویل میں دینے کی کوشش کر رہی ہے جو کہ حکومتی پالیسی کے واضح تضاد کی عکاسی کرتا ہے۔ڈاکٹر ثنا اللہ بلوچ نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے پہلے یہ مقف پیش کیا جا رہا تھا کہ دور دراز علاقوں میں محکمے کی رسائی ممکن نہیں اور اسٹاف کی فراہمی میں مشکلات درپیش ہیں، اس لیے وہاں نجکاری کا ماڈل اپنایا جا رہا ہے۔ لیکن اب شہر کے مرکزی علاقے میں قائم ہسپتال کو بھی نجی شعبے کے حوالے کرنے کی کوشش اس دلیل کو مکمل طور پر کمزور اور غیر منطقی بناتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری اداروں کو مضبوط بنانے کے بجائے انہیں نجکاری کی طرف دھکیلنا مسائل کا حل نہیں بلکہ مزید پیچیدگیوں کو جنم دے گا۔ وائی ڈی اے نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومتِ بلوچستان محکمہ صحت کے حوالے سے اپنے فیصلوں کو فوری طور پر واضح کرے، بصورتِ دیگر اس قسم کی عوام اور ملازم دشمن پالیسیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی جائے گی اور سخت احتجاج کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔