کوئٹہ(یو این اے )نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان نے جاری کردہ ایک بیان میں نوشکی میں نامور پروفیسر، شاعر، ادیب اور مصنف غمخوار حیات کے بہیمانہ قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پروفیسر غمخوار حیات جیسے دانشور، اہلِ قلم اور علمی شخصیات سماج کا روشن چہرہ اور قوم کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ ان کا بے دردی سے قتل نہ صرف ایک فرد کا نقصان ہے بلکہ پورے سماج کو اندھیرے میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔ بیان میں تربت میں لیڈی کانسٹیبل پر ہونے والے حملے اور اس کے نتیجے میں خاتون اہلکار کی جانِ عزیز کے ضیاع کو بھی انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت قرار دیا گیا۔نیشنل پارٹی کے ترجمان نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت صوبے میں امن و امان کے قیام میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور عملا اس کی کارکردگی صفر دکھائی دیتی ہے۔ گزشتہ دنوں گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر عبدالرزاق صابر، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر منظور بلوچ اور ان کے پرسنل اسٹاف ڈاکٹر ارشاد بلوچ کے اغوا کے واقعات بلوچستان میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور عدم تحفظ کے سنگین حالات کو واضح کرتے ہیں۔ بیان میں گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ بلوچستان میں اہلِ علم، اہلِ قلم، شاعر، ادیب، استاد اور دانشور مسلسل اغوا اور قتل کا نشانہ بن رہے ہیں، جو پورے معاشرے کے علمی و فکری مستقبل کے لیے ایک انتہائی خطرناک صورتحال ہے۔ نیشنل پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے اور ایسے سنگین واقعات کی روک تھام کے لیے حکومت روایتی غفلت چھوڑ کر سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔
