بولان (روزنامہ صداقت انٹرنیشنل) ریجنل یونین آف جرنلسٹس بلوچستان کے سینئر رکن اور کچھی پریس کلب ڈھاڈر کے صدر رئیس فرحان جمالی نے نصیر آباد ڈویژن میں صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کردہ پریس کلبوں کے فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم اور مبینہ بندر بانٹ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈویژنل ڈائریکٹر تعلقات عامہ (ڈی جی پی آر) نصیر آباد ڈویژن کی مبینہ چشم پوشی کی وجہ سے گزشتہ چار برسوں سے ڈویژن کے دیگر اضلاع کے پریس کلبوں کو یکسر نظر انداز کر کے صرف ایک ہی من پسند پریس کلب کو نوازا جا رہا ہے۔رئیس فرحان جمالی نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے صوبے کے تمام ڈویژنز کے ہیڈ کوارٹرز کو باقاعدگی سے فنڈز جاری کیے جاتے ہیں تاکہ تمام اضلاع کے ورکنگ صحافیوں کی فلاح و بہبود ممکن ہو سکے، لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ نصیر آباد ڈویژن میں گزشتہ 4 سال سے تمام فنڈز صرف ایک مخصوص پریس کلب کی نذر کیے جا رہے ہیں جو کہ ڈویژن کے دیگر اضلاع کے حقیقی، مخلص اور محنتی صحافیوں کے ساتھ سراسر ناانصافی، زیادتی اور معاشی قتل کے مترادف ہے۔انہوں نے سنگین انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ پریس کلبوں میں کئی سرکاری ملازمین نے صحافیوں کا روپ دھار کر حقیقی صحافی برادری کے بنیادی حقوق غضب کر رکھے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ علاقائی ورکنگ جرنلسٹس کے حقوق کے تحفظ کے لیے بہت جلد نصیر آباد ڈویژن کے مختلف پریس کلبوں کا تفصیلی دورہ کیا جائے گا اور صحافت کے لبادے میں فنڈز ہضم کرنے والے سرکاری ملازمین کے خلاف قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ریجنل یونین آف جرنلسٹس کے پلیٹ فارم سے علاقائی صحافیوں کے مسائل کے حل اور ان کے حقوق کی بحالی تک اپنی جدوجہد ہر سطح پر جاری رکھیں گے۔کچھی پریس کلب کے صدر رئیس فرحان جمالی نے وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی، سیکریٹری اطلاعات اور ڈائریکٹر جنرل تعلقات عامہ (ڈی جی پی آر) کے اعلی حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران نصیر آباد ڈویژن کو جاری ہونے والے تمام پریس کلب فنڈز کا فوری طور پر تھرڈ پارٹی آڈٹ کروایا جائے اور اس سلسلے میں ایک اعلی سطحی و غیر جانبدار تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فنڈز کی خرد برد، خورد برد اور بندر بانٹ میں ملوث پائے جانے والے تمام سرکاری ملازمین اور جعلی صحافیوں کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ ڈویژن کے حقیقی صحافیوں کی حق تلفی کا فوری ازالہ ممکن ہو سکے۔
