کوئٹہ (ویب نیوز)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان، بالخصوص بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں حکومت کی عملی عملداری کمزور ہو چکی ہے اور ملک کو درپیش تمام مسائل کا واحد حل آئین پر مکمل عمل درآمد اور قومی اتفاقِ رائے ہے۔ انہوں نے کہا کہ طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہیں کیے جا سکتے جبکہ عوام اپنے ہی علاقوں میں آزادانہ نقل و حرکت سے محروم ہیں۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے عوام پاکستان سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ نئی صوبوں کے قیام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ ایک انتظامی معاملہ ہے، تاہم اس ضمن میں متعلقہ عوام کی رائے لینا ضروری ہے اور تمام فیصلے باہمی مشاورت سے ہونے چاہییں۔ مولانا فضل الرحمان نے محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں سیاستدانوں کو مؤثر انداز میں کام کرنے کا موقع نہیں دیا گیا، پارلیمنٹ کی اہمیت کمزور کر دی گئی ہے اور پاکستان کو آئین کے مطابق چلایا جانا چاہیے۔ انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ موجودہ نظام کو ناکام سمجھتے ہیں تو انہیں اپنے عہدے سے مستعفی ہو جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مارشل لا کے ادوار میں آئین کو شدید نقصان پہنچایا گیا، تاہم جمعیت علمائے اسلام اپنی سیاسی اور آئینی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ جے یو آئی (ف) بلوچستان میں حکومت کا حصہ نہیں بنے گی، جبکہ ڈاکٹر مالک بلوچ سے ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ آیا وہ بلوچستان کے نئے وزیراعلیٰ بنیں گے یا نہیں۔
