تازہ ترین ۱۱ ستمبر ۲۰۲۶

مصنوعی ذہانت 2030 تک انسانیت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، محققین کا انتباہ

کوئٹہ (ویب نیوز) مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے حوالے سے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ انتہائی طاقتور مصنوعی ذہانت مستقبل میں انسانیت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھروپک اور دیگر اداروں سے وابستہ محققین کے مطابق خودکار طور پر بہتر ہونے والی سپر انٹیلی جنس پر قابو رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے اور ایک محقق جیکب کاکسن نے اسی خدشے کے باعث استعفیٰ بھی دیا۔ اینتھروپک کے ایک سینئر محقق ایوان ہبنگر کے مطابق اگلے 10 برس میں مصنوعی ذہانت سے انسانیت کے خاتمے کا امکان 10 فیصد سے زیادہ ہوسکتا ہے، تاہم یہ ایک خدشہ اور پیش گوئی ہے، کوئی ثابت شدہ حقیقت نہیں۔ ماہرین کے مطابق خطرہ صرف مشینوں کے انسانوں کے خلاف ہونے تک محدود نہیں بلکہ طاقتور مصنوعی ذہانت اہم کمپیوٹر نظام، معلومات اور بنیادی سہولیات کو متاثر کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کرسکتی ہے، اس لیے اس ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ مؤثر حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔