مستونگ: مستونگ کو قلات ڈویژن سے الگ کر کے کوئٹہ ڈویژن میں شامل کرنے کے بلوچستان کابینہ کے فیصلے کو سراوان کے ممتاز سرداروں، سیاسی رہنماؤں اور عوام نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ نواب محمد خان شاہوانی، سردار کمال خان بنگلزئی، سردار محمد عظیم محمد شہی، سردار زادہ جاوید جان لہڑی، سردار محمد عاصم سرپرہ اور سردار شیرباز خان ساتکزئی نے مشترکہ بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ سراوان کی تاریخی، جغرافیائی اور قبائلی شناخت کے خلاف ہے اور عوامی مشاورت کے بغیر کیا گیا اقدام صوبے میں مزید بے چینی پیدا کرے گا۔ رہنماؤں نے کہا کہ مستونگ صدیوں سے ریاستِ قلات اور سراوان کا مرکزی حصہ رہا ہے، اسے الگ کرنا تاریخ کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اس فیصلے کے خلاف یکم جون کو عظیم عوامی جرگہ منعقد ہوگا اور عوام سے بھرپور شرکت کی اپیل کی گئی ہے۔
