کوئٹہ (سید سردار محمد خوندئی)
ہفتے کی صبح ممتاز تاجر محمد ہاشم خان نورزئی اپنے گھر سے اپنے ہوٹل کی جانب جا رہے تھے کہ ایئرپورٹ روڈ پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے انہیں قتل کر دیا۔
واقعے کے بعد ان کے لواحقین اور علاقے کے عوام نے کوئٹہ چمن بین الاقوامی شاہراہ ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند کر دی۔ چند منٹوں میں سڑک کے دونوں جانب ہزاروں گاڑیاں پھنس گئیں اور شدید گرمی میں ہزاروں افراد نے سڑک پر بیٹھ کر دھرنا دے دیا۔
واقعے کے بعد بلوچستان کی مختلف سیاسی جماعتوں، قبائلی عمائدین، تاجر برادری اور مختلف مکاتبِ فکر کے افراد دھرنے میں شامل ہو گئے۔ دن بھر کئی بار ہونے والے مذاکرات بغیر کسی اعلامیے کے ناکام رہے۔ عصر کے وقت فیصلہ کن مذاکرات ایک بار پھر شروع کیے گئے، جن میں حکومتِ بلوچستان اور پولیس کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ انہوں نے مشتعل افراد کو یقین دہانی کرائی کہ ہاشم خان نورزئی کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں گے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس سے فوری رپورٹ طلب کی اور واقعے پر افسوس کا اظہار کیا۔
دریں اثنا بلوچستان کی مختلف پارٹیوں نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی حکومت امن و امان کے قیام میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ پہلے یہاں کاروبار ختم کر دیا گیا اور اب تاجروں کو شہید کیا جا رہا ہے۔
مرحوم نے کوئٹہ میں بین الاقوامی طرز کا “کابل ہوٹل” کے نام سے شاندار ریسٹورنٹ قائم کیا تھا، جس میں چار سو سے زائد مقامی بے روزگار افراد کو روزگار ملا ہوا تھا۔ ان کے بھائیوں اور ان کے دوست نجیب اللہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ “ہماری کسی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں تھی، ہم کاروباری لوگ ہیں، لیکن ہم حکومتِ وقت سے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہیں۔
مذاکرات کامیاب ہونے پر نورزئی قوم کے سربراہ حاجی امین اللہ خان نورزئی نے شرکاء سے خطاب میں احتجاج میں شریک تمام لوگوں اور سیاسی، قبائلی و سماجی رہنماؤں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ سے مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں، اب ہم ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ محمد ہاشم خان نورزئی تاجر برادری میں ایک جانی پہچانی شخصیت تھے۔
