کوئٹہ(ڈیلی صداقت انٹرنیشنل) بلوچستان پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنی فرائض کی ادائیگی کو یقینی بناتے ہوئے شہریوں کو پر امن اور جرائم سے پاک ماحول فراہم کرنے کے حوالے سے پوری طرح متحرک ہے، اس سلسلے میں صوبہ بھر میں کوئٹہ سمیت 7 رینجز کے تمام اضلاع میں اشتہاری، مفرور اور مطلوب ملزمان کے خلاف گرینڈ مہم جاری ہے۔ اشتہاری، مفرور و مطلوب اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کرنے والے سرفہرست اضلاع کے پولیس اہلکاروں کو اعلی کارکردگی پر نقد انعامات اور تعریفی اسناد سے نوازا جاتا ہے۔ ترجمان بلوچستان پولیس کے ایک پریس ریلیز کے مطابق انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان محمد طاہر کی ہدایات کی روشنی میں خصوصی مہم کے تسلسل میں گزشتہ تین ہفتوں کے دوران بلوچستان پولیس نے صوبہ بھر میں مطلوب اور مفرور کے خلاف جاری آپریشن کے دوران 43 اشتہاری، 288 مفرور جبکہ مختلف جرائم میں مطلوب 556 ملزمان کو حراست میں لیا ہے۔ اغوا کاروں کے خلاف بروقت اور فوری کارروائی رکھنے کے نتیجے میں 13 مغویوں کو بھی بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف کارروائیوں میں 5 مسروقہ گاڑیاں، 15 موٹر سائیکلیں اور 6 موبائل فونز برآمد کیے گئے۔ دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر 9 گاڑیوں اور دفعہ 550 کی کارروائی میں 28 موٹر سائیکلوں کو قبضے میں لیا گیا، جبکہ 1755 گاڑیوں سے کالے شیشے اتارے گئے۔انسدادِ منشیات مہم کے تحت 94 منشیات فروشوں کو گرفتار کیا گیا، جن کے قبضے سے 430.200 کلوگرام چرس، 203.253 کلوگرام آئس شیشہ، 739 کلوگرام خشک بھنگ، 23.34 کلوگرام افیون، 210.1 کلوگرام ہیروئن، 45 بیئر کین، 71 شراب کی بوتلیں اور 193 لیٹر کچی شراب برآمد کی گئی۔ کارروائی کے دوران 7000 لیٹر ایرانی ڈیزل، 9 پیکٹس گٹکا، 150 پیکٹ ایرانی سگریٹ اور 7 ارب 88 کروڑ روپے کی ایرانی کرنسی بھی قبضے میں لی گئی ہے۔پریس ریلیز کے مطابق مہم کے دوران اس امر کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے کہ جرائم پیشہ مطلوب اور اشتہاریوں کی ایک علاقے سے دوسرے علاقوں میں روپوشی کے تدارک کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔ علاوہ ازیں گرفتار ہونے والے ملزمان کی صوبے کے تمام تھانوں میں مطلوب مقدمات کی چھان بین کے علاوہ ملک کے دیگر صوبوں میں بھی ان کے خلاف متوقع مقدمات کے حوالے سے بھی تینوں صوبوں کے پولیس حکام سے رابطہ کر کے ریکارڈ کی مکمل چھان بین کی جاتی ہے، جبکہ گرفتار ملزمان کے جرائم کے ریکارڈ کی جانچ کے لیے دیگر صوبوں کے ساتھ ڈیٹا کا باقاعدہ تبادلہ بھی ہوتا ہے تاکہ جرائم پیشہ عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچانے میں ہر ممکن اقدامات کیے جا سکیں۔
