تحریر۔سیدانورشاہ
زیارت کے شہداء نے وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے قومی تاریخ میں ایک ایسا باب رقم کیا ہے جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔ مگر ان شہداء میں سے ایک پولیس اہلکار کی جیب سے مبینہ طور پر برآمد ہونے والا خون آلود وصیت نامہ درست ہے، تو یہ صرف ایک فرد کی آخری خواہش نہیں بلکہ پورے ریاستی نظام کے لیے ایک خاموش مگر انتہائی گہرا سوال ہے۔ ایک ایسا سپاہی جس نے ریاست کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جان قربان کر دی، وہ اپنی آخری تحریر میں اپنے قرض کی ادائیگی کی فکر کرتا رہا۔ یہ منظر دلوں کو جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی ہے۔ کسی بھی ریاست کا اصل سرمایہ اس کا دفاعی اسلحہ نہیں بلکہ وہ انسان ہوتے ہیں جو اپنے فرائض کی ادائیگی میں اپنی زندگیاں وقف کر دیتے ہیں۔ اگر انہی محافظوں کو زندگی میں معاشی تحفظ میسر نہ ہو اور وہ قرض کے بوجھ تلے دبے رہیں تو یہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشی اور انتظامی نظام کا المیہ ہے۔ وہ قوانین اور معاشی ڈھانچے جو وقت، مہنگائی اور انسانی ضروریات کے مطابق خود کو تبدیل نہ کریں، رفتہ رفتہ معاشرے میں ناانصافی، احساسِ محرومی اور بے یقینی کو جنم دیتے ہیں، اور یہی وہ کیفیت ہے جو کسی بھی معاشرے میں خاموش انقلابات کی بنیاد بنتی ہے۔
یہ وصیت نامہ محض ایک جذباتی داستان نہیں بلکہ ریاستی معاشی انصاف کے لیے ایک آئینہ ہے۔ ریاست کا پورا انتظامی نظام انہی سرکاری ملازمین کے کندھوں پر استوار ہے جو سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں، قانون نافذ کرتے ہیں، بچوں کو تعلیم دیتے ہیں، مریضوں کا علاج کرتے ہیں اور عوامی اداروں کو چلانے کی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔ اگر یہی طبقہ اپنی جائز ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہو، قرض لینے پر مجبور ہو جائے اور مہنگائی کے سامنے بے بس نظر آئے تو ریاستی نظام کی بنیادیں کمزور ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ اگرچہ کرپشن اور بدعنوانی کا کوئی اخلاقی یا قانونی جواز نہیں ہو سکتا، لیکن یہ بھی ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ جب نظام چلانے والوں کی آمدنی ان کی بنیادی ضروریات پوری نہ کر سکے تو مالی دباؤ بدعنوانی کے خطرات کو بڑھا دیتا ہے۔ مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ موجودہ تنخواہی ڈھانچے میں سالانہ اضافے کا فارمولا بھی عدم مساوات کو کم کرنے کے بجائے کئی مواقع پر اسے بڑھا دیتا ہے، یہاں تک کہ ایک اعلیٰ گریڈ کے ملازم کے تنخاہ میں سالانہ اضافے کی رقم نچلے درجے کے ملازم کی پوری ماہانہ تنخواہ کے برابر ہو جاتی ہے۔ یہ فرق صرف اعداد و شمار کا نہیں بلکہ انصاف، ریاستی ذمہ داری اور سماجی توازن کا بھی سوال ہے۔ ایسی معاشی ناہمواری آخرکار احساسِ محرومی، بداعتمادی اور ادارہ جاتی کمزوریوں کو جنم دیتی ہے۔
اس خون آلود وصیت نامے کو محض ایک خبر سمجھ کر فراموش کرنا شہداء کی قربانیوں سے انصاف نہیں ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ اس واقعے کو ایک خاموش انقلاب اور اصلاحِ نظام کے نقطۂ آغاز کے طور پر دیکھے اور شہید اہلکار کے نام سے “سرکاری ملازم معاشی تحفظ و منصفانہ تنخواہ اصلاحات پروگرام” متعارف کرائے۔ اس پروگرام کے تحت تنخواہوں کا تعین صرف گریڈ اور عہدے کی بنیاد پر نہیں بلکہ حقیقی معیارِ زندگی، مہنگائی، رہائش، تعلیم، علاج، ٹرانسپورٹ اور خاندانی ضروریات کو مدنظر رکھ کر کیا جائے۔ سالانہ اضافے کا ایسا منصفانہ فارمولا وضع کیا جائے جو معاشی تفاوت کو کم کرے، نہ کہ اسے مزید وسیع بنائے۔ اسی طرح سرکاری ملازمین اور شہداء کے اہلِ خانہ کے لیے قرضوں، ہنگامی ضروریات اور سماجی تحفظ کا مؤثر نظام قائم کیا جائے۔ درحقیقت اس شہید کا خون آلود وصیت نامہ کسی احتجاجی نعرے سے زیادہ طاقتور دستاویز ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس نے خاموشی سے اس معاشی نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے جس میں ریاست کی خدمت کرنے والا ایک وفادار اہلکار بھی قرض کے بوجھ تلے زندگی گزارنے پر مجبور تھا۔ اگر اس وصیت نامے کو بنیاد بنا کر ایک ایسا نظام تشکیل دیا جائے جو ہر سرکاری ملازم کو باوقار زندگی کی ضمانت دے، تو یہ صرف ایک پالیسی اصلاح نہیں بلکہ ایک خاموش انقلاب ہوگا۔ شاید تاریخ اس وصیت نامے کو ایک شہید کی آخری تحریر کے طور پر نہیں بلکہ اس دستاویز کے طور پر یاد رکھے جس نے ریاست کو یہ احساس دلایا کہ اپنے محافظوں کو باوقار زندگی دینا احسان نہیں بلکہ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ یہی اس شہید کے لہو کا سب سے عظیم، سب سے باوقار اور سب سے پائیدار خراجِ عقیدت ہوگا۔
