اسلام آباد (ڈیلی صداقت انٹرنیشنل)سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق نے پارلیمانی سال26۔ 2025 کے دوران پارلیمانی نگرانی، قانون سازی میں اصلاحات اور کمزور کمیونٹیز کے تحفظ پر زور دیا ہے۔سینیٹ میں پیش کی جانے والی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی قانون سازی کی جانچ پڑتال، پالیسی پر نظرثانی اور احتسابی اقدامات کے ذریعے آئینی حقوق کے تحفظ میں سرگرم عمل رہی جس کا مقصد ملک بھر میں ادارہ جاتی ردعمل کو مضبوط بنانا ہے۔11 فروری 2025 سے 16 فروری 2026 کے دوران کمیٹی کے 11 اجلاس منعقد ہوئے اور سینیٹ کی طرف سے بھیجے گئے آٹھ آئٹمز پر غور کیا گیا جبکہ ایوان کے سامنے 6 رپورٹیں پیش کیں۔کمیٹی کی چیئرپرسن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا ہے کہ کمیٹی خواتین، بچوں، اقلیتوں، مزدوروں، قیدیوں اور معاشرے کے دیگر کمزور طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے پر عزم ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کمیٹی نے احتساب کو مضبوط بنانے، قوانین کے نفاذ کو بہتر بنانے اور انسانی حقوق کے مسائل سے نمٹنے والے اداروں کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے کے لیے کام کیا۔کمیٹی نے بچوں کے تحفظ، صنفی بنیادوں پر تشدد، کام کی جگہ پر ہراساں کرنے، حراست میں بدسلوکی اور عوامی تحفظ کے معاملات سمیت انسانی حقوق کے اہم خدشات کا نوٹس لیتے ہوئے بروقت کارروائی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے صوبائی اور وفاقی حکام سے تفصیلی رپورٹس بھی طلب کیں۔کمیٹی کی سب سے بڑی توجہ بچوں کا تحفظ رہی۔ کمیٹی نے بچوں کے اغوا، اسمگلنگ، بدسلوکی اور تشدد سے متعلق کیسز کا جائزہ لیا، جبکہ انسدادی اور تفتیشی طریقہ کار کو بہتر بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا۔کمیٹی نے اہم قانون سازی کے اقدامات پر بھی پیش رفت کی، جس میں بچوں کے حقوق کے قومی کمیشن (ترمیمی) بل 2023، معذور افراد کے آئی سی ٹی حقوق (ترمیمی)بل 2024، اور قومی کمیشن برائے اقلیتی بل، 2025 پر غور و خوض شامل ہے۔سالانہ رپورٹ میں خواتین کے وراثتی حقوق، کام کی جگہ پر ہراساں کیے جانے، جیلوں میں اصلاحات، کان میں کام کرنے والوں کی حفاظت اور اقلیتوں کے تحفظ سے نمٹنے کے لیے کمیٹی کی کوششوں پر مزید روشنی ڈالی گئی، انہیں پاکستان میں سماجی انصاف اور آئینی تحفظات کو مضبوط کرنے کی وسیع تر کوششوں کے حصے کے طور پر بیان کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق کمیٹی نے انسانی وقار کے تحفظ اور تمام شہریوں کے مساوی حقوق کو یقینی بنانے کے لیے قوانین کے موثر نفاذ، بروقت رپورٹنگ اور ادارہ جاتی احتساب کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
