مقامی ۹ جون ۲۰۲۶

سول ہسپتال واقعہ نے ترقی و خوشحالی دعوں کے پول کھول دیئے،پروفیسر حلیم صادق

کوئٹہ (ویب نیوز)عوام پاکستان پارٹی بلوچستان کے صوبائی جنرل سیکرٹری پروفیسر ڈاکٹر حلیم صادق نے سول ہسپتال کوئٹہ میں پیش آنے والے افسوسناک تیزاب گردی کے واقعہ پر شدید تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ صحت پر اربوں روپے خرچ کرنے، صحت کے شعبے میں انقلابی اقدامات اور بلوچستان میں ترقی و خوشحالی کے دعوے اس ایک واقعہ کے بعد بے معنی ثابت ہوگئے ہیں۔ اپنے جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا کہ صوبے کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعہ کے بعد متاثرہ ڈاکٹر صاحبہ کو فوری طور پر ایک نجی ہسپتال منتقل کرنا اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ سرکاری اداروں اور محکموں کی کارکردگی حکومتی دعوں کے برعکس انتہائی ناقص ہے۔اگر سرکاری ہسپتالوں میں تمام سہولیات، جدید آلات اور ماہر طبی عملہ موجود ہے تو پھر متاثرہ ڈاکٹر کو نجی ہسپتال منتقل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟پروفیسر ڈاکٹر حلیم صادق نے کہا کہ اس واقعہ نے نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی بلوچستان کے صحت کے نظام کے حوالے سے منفی تاثر پیدا کیا ہے۔ حکومت ایک جانب صحت کے شعبے میں تاریخی ترقی کے دعوے کرتی ہے جبکہ دوسری جانب عملی صورتحال اس کے بالکل برعکس نظر آتی ہے۔ عوام جاننا چاہتے ہیں۔ کہ اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز اور صحت کے منصوبوں کے نتائج آخر کہاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر خدانخواستہ ایسا ہی افسوسناک واقعہ کسی عام شہری کے ساتھ پیش آتا تو اس کے علاج، طبی سہولیات اور بروقت طبی امداد کی کیا صورتحال ہوتی؟یہ سوال آج بلوچستان کے ہر شہری کے ذہن میں موجود ہے جس کا جواب حکومت اور محکمہ صحت کو دینا ہوگا۔عوام پاکستان پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری نے مطالبہ کیا کہ واقعہ کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔جبکہ محکمہ صحت کی مجموعی کارکردگی کا بھی آزادانہ آڈٹ کرایا جائے تاکہ عوام کے ٹیکسوں سے خرچ ہونے والے وسائل کا درست حساب سامنے آسکے۔