تحریر: نور مت خان
سنٹرل کرم کو درپیش معاشی مسائل اب محض ترقیاتی چیلنج نہیں رہے بلکہ یہ انسانی سلامتی، پائیدار امن اور علاقائی استحکام سے جڑا ایک اہم مسئلہ بن چکے ہیں۔ زرخیز زرعی اراضی، وافر آبی وسائل، معدنی ذخائر اور افغانستان سے ملحق اس کی اسٹریٹجک جغرافیائی حیثیت کے باوجود ضلع کرم معاشی پسماندگی کا شکار ہے۔ قدرتی وسائل کی فراوانی کے باوجود غربت، بے روزگاری اور محدود معاشی سرگرمیاں اس امر کی متقاضی ہیں کہ اس خطے کے لیے ایک جامع اور دیرپا معاشی حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ضلع کرم کی آبادی تقریباً 6 لاکھ 19 ہزار 553 نفوس پر مشتمل ہے، جبکہ اس کا رقبہ 3,380 مربع کلومیٹر ہے۔ سنٹرل کرم میں صدہ ایک اہم تجارتی مرکز جبکہ پاراچنار انتظامی اور زرعی سرگرمیوں کا محور ہے، تاہم یہ علاقہ اپنی جغرافیائی اہمیت کو معاشی ترقی میں تبدیل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
ورلڈ بینک کے مطابق کرم کے 54 فیصد گھرانوں کے پاس زرعی زمین موجود ہے، جو ضم شدہ اضلاع میں سب سے زیادہ شرح ہے، مگر صرف 14 فیصد کسان اپنی پیداوار مقامی منڈیوں میں فروخت کر پاتے ہیں۔ گندم، مکئی، چاول، سبزیاں، دالیں اور آلو بخارا سمیت دیگر پھل یہاں کی اہم پیداوار ہیں، لیکن منڈیوں تک رسائی نہ ہونے کے باعث ان کی تجارتی صلاحیت پوری طرح بروئے کار نہیں آ رہی۔
بار بار سڑکوں کی بندش، بدامنی اور نقل و حمل میں رکاوٹوں نے مقامی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ کسان اپنی تازہ پیداوار بروقت کوہاٹ، پشاور اور دیگر شہروں تک نہیں پہنچا پاتے، جبکہ چھوٹے تاجر، ٹرانسپورٹرز اور مزدور بھی روزگار سے محروم ہو جاتے ہیں۔
صنعتی ترقی بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ کوئلہ، صابن پتھر اور لوہے کے ذخائر کے باوجود ضلع میں کوئی انڈسٹریل اسٹیٹ قائم نہیں کی گئی، جبکہ پن بجلی پیدا کرنے کے لیے دستیاب آبی وسائل بھی مؤثر انداز میں استعمال نہیں ہو رہے۔ نتیجتاً نوجوان روزگار کی تلاش میں دوسرے علاقوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔
خواتین کی معاشی سرگرمیوں میں شمولیت بھی انتہائی محدود ہے۔ اگر دستکاری، فوڈ پروسیسنگ، پولٹری، ڈیری فارمنگ اور ڈیجیٹل کاروبار کو فروغ دیا جائے تو نہ صرف خواتین بااختیار ہوں گی بلکہ گھریلو آمدنی میں بھی نمایاں اضافہ ممکن ہوگا۔
سنٹرل کرم کی معاشی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ رابطہ سڑکوں کو ہر موسم میں کھلا رکھا جائے، جدید زرعی ٹیکنالوجی، کولڈ اسٹوریج، گریڈنگ اور پروسیسنگ مراکز قائم کیے جائیں، سمال انڈسٹریل اسٹیٹ کا قیام عمل میں لایا جائے، نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق فنی تربیت فراہم کی جائے اور سیاحت کے شعبے کو ترقی دی جائے۔
سنٹرل کرم کے پاس قدرتی وسائل، زرخیز زمین، محنتی افرادی قوت اور منفرد جغرافیائی محلِ وقوع موجود ہے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ حکومت بنیادی ڈھانچے، سرمایہ کاری، منڈیوں تک رسائی اور انسانی وسائل کی ترقی کو ترجیح دے تاکہ کرم کا مستقبل تنازعات کے بجائے تجارت، زراعت، صنعت اور پائیدار خوشحالی سے وابستہ ہو۔۔۔۔۔
