کوئٹہ (ویب نیوز) سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے یمن میں حوثیوں کی پیش قدمی اور بحیرہ احمر کو لاحق خطرات کے پیش نظر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے حوثیوں کے خلاف براہ راست فوجی حملوں کی درخواست کی، تاہم ٹرمپ نے انکار کردیا۔ امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس کے مطابق محمد بن سلمان نے جمعرات کو ٹرمپ سے دو مرتبہ ٹیلی فون پر رابطہ کیا، جبکہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال حوثیوں کے خلاف براہ راست امریکی فوجی مداخلت کا کوئی منصوبہ نہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکا سعودی عرب کو حوثیوں سے متعلق انٹیلی جنس اور ممکنہ اہداف کی معلومات فراہم کرے گا، تاہم واشنگٹن ایران اور آبنائے ہرمز پر اپنی فوجی توجہ مرکوز رکھتے ہوئے نئے محاذ میں شامل ہونے سے گریز کررہا ہے۔ حوثیوں کی بحیرہ احمر اور باب المندب کے قریب بڑھتی موجودگی پر امریکا اور خلیجی اتحادیوں کو تشویش ہے، جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے بھی سعودی عرب کا ہنگامی دورہ کیا ہے۔
