کوئٹہ(ویب نیوز) وحدت کالونی سانحہ میں افسوسناک طور پر شوہر کے ہاتھوں قتل ہونے والی خاتون کو آج سخت سیکیورٹی اور انتہائی رقت آمیز مناظر کے درمیان سفید کفن میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ تدفین کے موقع پر مرحومہ کے بوڑھے والد شدید غم و دکھ کی وجہ سے نڈھال دکھائی دیے جبکہ اہلخانہ، عزیز و اقارب اور علاقہ مکینوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے نمازِ جنازہ اور تدفین میں شرکت کی۔ تفصیلات کے مطابق، مقتولہ خاتون کی لاش جب آخری دیدار اور تدفین کے لیے لائی گئی تو پورا ماحول سوگوار ہو گیا؛ گھر کے صحن سے لے کر قبرستان تک ہر آنکھ اشکبار نظر آئی۔ مقتولہ کے والد بار بار اپنی جگر گوشہ کو یاد کر کے آبدیدہ ہوتے رہے اور غم کی شدت سے خود پر قابو نہ رکھ سکے۔ سوگوار اہلخانہ کا کہنا تھا کہ یہی وہ بیٹی تھی جسے کچھ عرصہ قبل بڑے ارمانوں، خوشیوں اور امیدوں کے ساتھ سرخ جوڑے میں رخصت کیا گیا تھا، مگر کسی کو کیا معلوم تھا کہ وہ یوں سفید کفن میں واپس آئے گی۔علاقہ مکینوں نے اس دلخراش واقعے پر شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ پورے شہر کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے جس نے ہر انسان کے دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ نمازِ جنازہ میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کر کے مقتولہ کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔ تدفین کے دوران کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ مقتولہ کے والد نے رندھے ہوئے لہجے میں کہا کہ انہوں نے بیٹی کی شادی سنہرے خوابوں کے ساتھ کی تھی، لیکن ان کی خوشیاں ہمیشہ کے لیے ماتم میں بدل گئیں۔ اس موقع پر شہریوں اور اہل علاقہ نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے پرزور مطالبہ کیا کہ گھریلو تشدد کی روک تھام کے لیے مثر قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے اور اس المناک واقعے کے ذمہ دار عناصر کو قرار واقعی سزا دے کر متاثرہ خاندان کو فوری انصاف فراہم کیا جائے۔
