

کوئٹہ/ زیارت( سید سردار محمد خوندئی )
گزشتہ روز مسلح دہشت گردوں نے زیارت میں حملے کے دوران 9 افراد کو موقع پر شہید کیا اور 19 پولیس اہلکاروں کو اغوا کر کے ساتھ لے گئے۔ کچھ دیر قبل سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں اغوا کیے گئے تمام 19 اہلکاروں کی لاشیں دکھائی گئیں اور لواحقین سے انہیں لے جانے کا کہا گیا۔ اطلاع ملنے پر ضلعی انتظامیہ زیارت نے فوری کارروائی کرتے ہوئے لاشوں کو ایمبولینسوں کے ذریعے زیارت ہسپتال منتقل کر دیا۔
یاد رہے کہ تین روز قبل کوئٹہ کے علاقے ہنہ اوڑک میں سینکڑوں مسلح دہشت گردوں نے گاؤں کا محاصرہ کر کے مقامی قبائل پر اندھا دھند فائرنگ کی تھی۔ اس واقعے میں 4 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس کے بعد دہشت گردوں نے زیارت کا رخ کیا اور منگی ڈیم پر حملہ کر دیا۔ پولیس نے کئی گھنٹوں تک مزاحمت کی، تاہم جھڑپ میں 9 اہلکار موقع پر شہید ہو گئے جبکہ 19 اہلکاروں کو دہشت گرد اپنے ساتھ لے گئے۔
واقعے کے بعد سیکورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ صوبائی ترجمان اور سیکورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران 15 دہشت گرد مارے گئے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے خود زیارت کا دورہ کیا اور زیارت کراس پر بین الاقوامی شاہراہ کھولنے کی اپیل کرتے ہوئے واضح کیا کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
کوئٹہ میں احتجاجی دھرنا جاری
دوسری جانب کوئٹہ میں بی اے مال کے سامنے شہداء کے لواحقین، قبائلی عمائدین، مختلف سیاسی جماعتوں اور تاجر برادری کا احتجاجی دھرنا چوتھے روز بھی جاری ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ حکومت امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کی ضمانت دے۔
اس سلسلے میں آج بدھ کو شام 4 بجے تمام سیاسی جماعتوں، سماجی و مذہبی تنظیموں اور تاجر برادری کا مشترکہ جلسہ عام منعقد ہوگا، جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔
