کوئٹہ (ویب نیوز)زیارت میں کلیئرنس آپریشن کے بعد حکومت بلوچستان کی جانب سے کارروائی کو کامیاب قرار دینے اور متعدد دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا، تاہم بعد ازاں لاپتا پولیس اہلکاروں کی لاشیں ملنے کی اطلاعات نے کئی اہم سوالات کو جنم دے دیا ہے۔اگر آپریشن کامیاب تھا تو مغوی پولیس اہلکار بحفاظت بازیاب کیوں نہ ہو سکے؟ ان کی محفوظ واپسی کے بغیر آپریشن کو مکمل کامیابی قرار دینا عوامی سطح پر تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ اسی طرح یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ جن مسلح افراد کی موجودگی کا ذکر کیا جا رہا تھا، وہ کہاں گئے، اور اگر پہلے مغوی اہلکاروں کی بحفاظت بازیابی کی یقین دہانی کرائی گئی تھی تو وہ وعدہ کیوں پورا نہ ہو سکا؟ اس کے علاوہ ہنہ اوڑک سے اغوا ہونے والے افراد کی عدم بازیابی بھی عوامی تشویش میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔متاثرہ خاندانوں اور شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ ان سوالات کے واضح اور تسلی بخش جوابات سامنے آنا ضروری ہیں۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، تمام حقائق قوم کے سامنے رکھے جائیں اور ذمہ داروں کے تعین کے ساتھ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔
