مقامی ۲۰ مئی ۲۰۲۶

رخشان ڈویژن میں ایف سی کی اضافی تعیناتی اور سیکیورٹی راہداری کا قیام تشویشناک ہے، نوابزادہ امیر شہریار خان نوشیروانی

خاران(ڈیلی صداقت انٹرنیشنل) خاران اور واشک کے معروف قبائلی شخصیت نوابزادہ امیر شہریار خان نوشیروانی نے رخشان ڈویژن میں معدنیات کے تحفظ کے نام پر فرنٹیئر کور (FC) کی اضافی تعیناتی اور سیکیورٹی راہداری کے قیام سے متعلق وزیراعظم پاکستان کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی ایپکس کمیٹی اجلاس کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان خصوصا رخشان ڈویژن کے قدرتی وسائل پر فیصلے مسلسل مقامی آبادی کو اعتماد میں لیے بغیر کیے جا رہے ہیں، جو کہ یہاں کے عوام کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ رخشان ڈویژن کے بیشتر معدنیاتی علاقے پہلے ہی غیر مقامی کمپنیوں کو الاٹ کیے جا چکے ہیں، جو مقامی آبادی کے معاشی، سماجی اور آئینی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ اگر انہی منصوبوں میں مقامی افراد کو شراکت داری، روزگار اور ملکیت کا حقیقی حق دیا جائے تو مقامی لوگ خود اپنی زمین، وسائل اور روزگار کے تحفظ کے ضامن بن سکتے ہیں، اور پھر کسی بھی غیر معمولی سیکیورٹی راہداری کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے بلوچستان میں ترقی کے نام پر ہمیشہ بڑے بڑے دعوے کیے گئے، مگر زمینی حقائق یہ ہیں کہ آج بھی خاران اور واشک جیسے اضلاع پینے کے صاف پانی، صحت، تعلیم، روزگار، زراعت اور سرمایہ کاری جیسی بنیادی ترین سہولیات سے یکسر محروم ہیں۔ صورتحال کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مقامی آبادی کو رفتہ رفتہ ریڈ انڈینز کی طرح محدود سیٹلمنٹس تک محدود کر کے باہر کی کمپنیوں اور غیر مقامی آبادی کو ہمارے علاقوں پر مسلط کیا جا رہا ہے۔ نوابزادہ امیر شہریار خان نوشیروانی نے واضح کیا کہ بلوچستان کے عوام کے پاس باعزت روزگار کے صرف دو بڑے ذرائع تھے جن میں معدنیات اور زراعت شامل ہیں۔ اب معدنیات کے شعبے میں مقامی لوگوں کو عملا دیوار سے لگایا جا رہا ہے، جبکہ زراعت کے شعبے میں بھی کسانوں کو نہ تو مناسب سبسڈی دی جا رہی ہے اور نہ ہی کوئی موثر حکومتی ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے۔ خاران اور واشک کے کسان و عوام بخوبی جانتے ہیں کہ مختلف زرعی و ترقیاتی پروگراموں اور گرانٹس میں ہمارے علاقوں کے عام لوگوں کو ایک روپے تک کا فائدہ نہیں پہنچایا گیا۔انہوں نے اپنے تفصیلی بیان میں مزید کہا کہ دنیا آج بارڈر ٹریڈ کو معیشت کی مضبوط بنیاد بنا رہی ہے، مگر بلوچستان کے غریب عوام کو محدود پیمانے پر جاری فیول تجارت پر بھی بے جا مقدمات، پٹرولنگ اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، حالانکہ یہی سامان بلوچستان کے راستے ملک کے دوسرے حصوں تک پہنچتا ہے اور وہاں کی معیشت کو فائدہ دیتا ہے۔ اگر اس عمل سے ملک کے دوسرے حصوں کو فائدہ نہ ہو رہا ہوتا تو شاید یہ ذریع معاش بھی کب کا بند کر دیا جاتا۔ آخر میں انہوں نے مقتدر حلقوں اور حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ بلوچستان خصوصا رخشان ڈویژن میں معدنیات سے متعلق تمام پالیسیوں، الاٹمنٹس اور ترقیاتی منصوبوں میں مقامی آبادی کو اولین ترجیح دی جائے، انہیں شراکت داری اور روزگار کا آئینی حق دیا جائے، کیونکہ پائیدار امن، حقیقی ترقی اور استحکام صرف اسی صورت ممکن ہے جب مقامی لوگوں کو اپنے وسائل کا اصل مالک اور برابر کا شریک تسلیم کیا جائے۔