اسلام آباد (ویب نیوز) خیبرپختونخوا میں وفاقی حکومت کی جانب سے گورنر راج یا ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ کی بحث کے دوران آئین پاکستان میں اس کے لیے واضح طریقہ کار موجود ہے۔ آرٹیکل 234 کے تحت اگر صدرِ مملکت، صوبے کے گورنر کی رپورٹ موصول ہونے پر اس بات سے مطمئن ہوں کہ صوبائی حکومت آئین کے مطابق نہیں چل سکتی تو صدر صدارتی فرمان کے ذریعے صوبائی حکومت کے بعض یا تمام اختیارات خود سنبھال سکتے ہیں یا گورنر کو یہ اختیارات تفویض کرسکتے ہیں۔ دوسری جانب آرٹیکل 232 کے تحت جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسی داخلی بدامنی کی صورت میں ایمرجنسی نافذ کی جاسکتی ہے جو صوبائی حکومت کے قابو سے باہر ہو۔ داخلی بدامنی کی بنیاد پر ایمرجنسی کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد درکار ہے؛ تاہم اگر صدر اپنے طور پر ایمرجنسی نافذ کریں تو اسے دس روز کے اندر پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے لیے پیش کرنا ہوتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں وفاقی حکام کی جانب سے خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے آئینی آپشنز کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ صوبائی حکومت نے ان اقدامات کی مخالفت کی ہے۔ 29 ستمبر کی رپورٹس کے مطابق وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان اختلافات میں شدت آئی ہے اور وفاقی وزرا کی جانب سے گورنر راج کے امکان کا اظہار کیا گیا ہے۔
