خضدار(ویب نیوز) پولیس نے 4 اگست کو قتل ہونے والے اسکول ٹیچر عنایت اللہ کے قتل کیس میں کارروائی کرتے ہوئے انجیرہ میں ملزم ظہور جمالزئی کے گھر پر چھاپہ مار کر 5 سے 6 مشکوک افراد کو گرفتار کرلیا۔ ڈی آئی جی خضدار رینج وزیر خان ناصر کے مطابق کارروائی کے دوران گھر سے ایل ایم جی، راکٹ لانچر، کلاشنکوف، دیگر رائفلیں، بڑی مقدار میں ایمونیشن، منشیات، موبائل فونز اور اہم دستاویزات برآمد کی گئیں، جبکہ گھر میں ایک خفیہ تہ خانہ بھی دریافت ہوا جہاں سے زنجیریں برآمد ہوئیں۔ ڈی آئی جی کے مطابق ملزم ظہور جمالزئی اور اس کا گروپ قتل سمیت تقریباً 10 مقدمات میں مطلوب ہے جبکہ ایک مقدمے میں اسے غیر موجودگی میں سزائے موت بھی سنائی جاچکی ہے۔ ان کے مطابق گرفتار افراد سے تفتیش جاری ہے اور پولیس و انٹیلیجنس اداروں کے تعاون سے ملزم کو جلد گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ یاد رہے کہ 4 اگست کو اسماء جتک نے ویڈیو پیغام کے ذریعے اپنے خاندان کو لاحق خطرے سے آگاہ کیا تھا، جس کے چند گھنٹے بعد ان کے والد عنایت اللہ کو رہائش گاہ کے باہر قتل کردیا گیا تھا، واقعے کے بعد حکومت نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بھی تشکیل دی تھی۔
