کوئٹہ(صداقت انٹرنیشنل ویب ڈیسک)کوئٹہ کے سول ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کے افسوسناک اور ہولناک واقعے کے خلاف ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائی ڈی اے)کے رہنماوںڈاکٹر حئی بلوچ اور ڈاکٹر عادل خان نے سول ہسپتال میں ایک ہنگامی اور پرہجوم پریس کانفرنس کی ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر حئی بلوچ نے کہا کہ آج ہسپتال کے اندر ایک انتہائی غیر انسانی واقعہ پیش آیا جہاں سرجری وارڈ میں ڈیوٹی پر موجود ہماری پی جی (پوسٹ گریجویٹ) ڈاکٹر کے چہرے اور جسم پر تیزاب پھینک کر انہیں قتل کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ واقعہ دوپہر 12 سے ساڑھے 12 بجے کے درمیان پیش آیا اور تیزاب گردی کے باعث متاثرہ خاتون ڈاکٹر کا جسم 35 فیصد تک جل چکا ہے۔ ڈاکٹر عادل خان نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ خاتون ڈاکٹر اپنے کمرے میں پڑھ رہی تھیں کہ ہسپتال کے لفٹ چلانے والے ایک پرائیویٹ ملازم نے ان کا دروازہ کھٹکھٹایا، اور جیسے ہی ڈاکٹر باہر آئیں تو ملزم نے ان پر تیزاب پھینک دیا۔ڈاکٹر حی بلوچ نے محکمہ صحت کی اعلی انتظامیہ پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال میں آئے روز ڈاکٹروں کے ساتھ ایسے واقعات ہوتے ہیں اور یہاں سیکیورٹی کا نام و نشان تک نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے سیکریٹری صحت اپنے آفس میں موجود نہیں ہوتے اور ان کی تمام تر انرجی صرف کرپشن اور ٹینڈر حاصل کرنے پر مرکوز ہے۔ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ چل نہیں رہا بلکہ اسے زبردستی گھسیٹا جا رہا ہے اور ہسپتالوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر چلانے کا واحد مقصد یہ ہے کہ ان کا آڈٹ نہ ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں جو ایم ایس بٹھائے گئے ہیں انہیں کئی کئی ہسپتالوں کے چارج دیے گئے ہیں اور یہ ہیلتھ آفیسرز محض کرپشن کے لیے بھرتی کیے گئے ہیں۔ اگر اج ہسپتال میں ایک ڈاکٹر کا علاج صحیح طریقے سے نہیں ہو سکا تو غریب عوام کا کیا علاج ہو پائے گا۔ینگ ڈاکٹرز کے رہنماں نے دوٹوک الفاظ میں مطالبہ کیا کہ سیکریٹری صحت، سول ہسپتال کے ایم ایس اور سیکیورٹی انچارج کو فی الفور ان کے عہدوں سے ہٹایا جائے۔ انہوں نے انتظامیہ کو وارننگ دی کہ اگر اگلے 12 گھنٹوں کے اندر ملزم کو گرفتار کر کے متاثرہ ڈاکٹر کو انصاف فراہم نہ کیا گیا تو وہ انتہائی سخت اقدامات اٹھانے پر مجبور ہوں گے۔ وائی ڈی اے نے اعلان کیا کہ اس وحشیانہ واقعے کے خلاف احتجاجا سول ہسپتال میں ایمرجنسی کے علاوہ تمام تر سروسز اور سرجری وارڈز کا مکمل بائیکاٹ رہے گا، جبکہ ینگ ڈاکٹرز کی اس کال پر پیرامیڈیکل اسٹاف نے بھی تمام سروسز سے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کسی کے باپ کا نہیں ہے، ہم ینگ ڈاکٹرز اس کے اصل وارث ہیں اور اپنے ڈاکٹروں کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے۔
