مقامی ۲۰ مئی ۲۰۲۶

تین ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا بارکھان تا رکنی روڈ کئی سال گزرنے کے باوجود مکمل نہ ہو سکا، عوام شدید مشکلات کا شکار

بارکھان(ڈیلی صداقت انٹرنیشنل) تین ارب روپے کی خطیر لاگت سے تعمیر ہونے والا بارکھان تا رکنی روڈ کئی سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود تاحال مکمل نہ ہو سکا، جس کے باعث علاقہ مکینوں اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بارکھان کو ڈیرہ غازیخان اور صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے ملانے والی یہ انتہائی اہم اور کلیدی شاہراہ آج بھی شدید ترین ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ سڑک کی انتہائی ابتر صورتحال اور گہرے گڑھوں کے باعث جہاں ایک طرف شہریوں کی قیمتی گاڑیاں تباہ ہو رہی ہیں، وہاں دوسری طرف آئے روز ہونے والے متعدد ٹریفک حادثات میں اب تک کئی قیمتی انسانی جانیں بھی ضائع ہو چکی ہیں۔اس سنگین صورتحال کے خلاف وکلا برادری، مختلف سیاسی جماعتوں اور عام شہریوں کی جانب سے اب تک کئی بار پرزور احتجاجی مظاہرے کیے گئے اور حکام سے مطالبات بھی کیے گئے، مگر افسوس اس کے باوجود یہ اہم منصوبہ تاحال ادھورا پڑا ہے۔ عوامی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس روڈ کے ساتھ منظور ہونے والے دیگر تمام تر ترقیاتی منصوبے کئی سال پہلے ہی کامیابی سے مکمل ہو چکے ہیں، لیکن بارکھان تا رکنی روڈ کا منصوبہ متعلقہ حکام کی مبینہ غفلت کے باعث مسلسل تاخیر کا شکار چلا آ رہا ہے۔ علاقے کے غیور عوام نے وزیراعلی بلوچستان سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس اہم منصوبے میں مجرمانہ تاخیر کرنے والی کمپنی کے خلاف فوری اور سخت قانونی نوٹس لیا جائے اور سڑک کی تعمیراتی کام کو جلد از جلد مکمل کروا کر عوام کو درپیش اس دیرینہ اور اذیت ناک مسئلے کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کیا جائے۔