کوئٹہ (اے این این) آل بلوچستان بس یونین اور پنجاب خیبرپختونخوا بس یونین کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ظاہر شاہ کاکڑ، جنرل سیکرٹری وزیر خان، اقبال سرگڑھ، حبیب اللہ خان اور دیگر عہدیداروں نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں ٹرانسپورٹ کا شعبہ شدید بحران سے دوچار ہوچکا ہے جبکہ ٹرانسپورٹرز مسائل کے دلدل میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ اگر حکومت اور متعلقہ قومی اداروں نے فوری توجہ نہ دی تو بلوچستان سے ٹرانسپورٹ کا کاروبار مکمل طور پر ختم ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی شاہراہوں پر بدامنی کے بڑھتے ہوئے واقعات، مختلف چیک پوسٹوں پر مسافر گاڑیوں کو گھنٹوں کھڑا رکھنا، کسٹم اور دیگر اداروں کی جانب سے مبینہ بھتہ خوری، نیشنل ہائی وے پولیس کی بلاجواز سختی اور آئے روز جرمانوں نے ٹرانسپورٹرز کیلئے کاروبار جاری رکھنا ناممکن بنادیا ہے۔ ایک طرف مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ دوسری جانب ٹرانسپورٹرز مالی نقصانات برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔رہنماؤں نے کہا کہ مسافر گاڑیوں کیلئے غیر ضروری ٹائم شیڈول نافذ کرکے ٹرانسپورٹرز کو مزید مشکلات سے دوچار کیا جارہا ہے۔ بلوچستان جیسے طویل فاصلے اور حساس حالات والے صوبے میں زمینی حقائق کو مدنظر رکھے بغیر فیصلے کرنا ٹرانسپورٹرز اور عوام دونوں کے ساتھ زیادتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف قسم کے ٹیکسز اور سرکاری فیسوں میں مسلسل اضافہ بھی ٹرانسپورٹ شعبے کو تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں جس کے باعث گاڑیوں کے اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔ سپیئر پارٹس، ٹائرز اور دیگر اشیاء کی قیمتیں بھی ناقابل برداشت ہوچکی ہیں جبکہ آمدن میں مسلسل کمی آرہی ہے۔ موجودہ حالات میں بیشتر ٹرانسپورٹرز گاڑیاں فروخت کرنے یا کاروبار بند کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ قومی شاہراہوں پر امن و امان کی صورتحال بہتر بنائی جائے، غیر ضروری چیک پوسٹوں اور بھتہ خوری کا خاتمہ کیا جائے، نیشنل ہائی وے پولیس کی جانب سے بلاجواز کارروائیوں کو روکا جائے۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی جائے اور ٹرانسپورٹرز کو خصوصی ریلیف پیکیج دیا جائے تاکہ ٹرانسپورٹ کا شعبہ مزید تباہی سے بچ سکے۔
