کوئٹہ (ویب نیوز)جمعیت علما اسلام نظریاتی پاکستان کے مرکزی امیر مولانا عبدالقادر لونی، جنرل سیکرٹری مفتی شفیع الدین، مرکزی سیکرٹری اطلاعات سید حاجی عبدالستار شاہ چشتی اور حاجی حیات اللہ کاکڑ و دیگر نے صوبے کی بین الاقوامی شاہراہوں پر لوٹ مار، مسافر گاڑیوں کو لوٹنے بالخصوص پشتون بیلٹ کوئٹہ، قلعہ عبداللہ، چمن، پشین، لورالائی، دکی اور دیگر علاقوں میں بڑھتے ہوئے قتل و غارت گری کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چند ہی دنوں کے اندر پانچ درجن سے زائد قیمتی جانوں کے ضیاع اور درجنوں افراد کے بے دردی سے قتل جیسے دلخراش سانحات نے صوبہ بھر کے تمام طبقات اور اقوام کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اور حکومتی اداروں کی موجودگی میں ایسے افسوسناک واقعات رونما ہونا ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے۔ رہنماں نے کہا کہ بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی حالات انتہائی تشویشناک ہیں؛ حکومت امن و امان کے قیام اور ریاستی رٹ کے بلند و بانگ دعوے تو کرتی ہے لیکن عملی طور پر وہ امن کی بحالی میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔رہنماں کا کہنا تھا کہ آئے روز کی بدامنی، مسلسل خونریزی اور لاقانونیت کے واقعات نے عوام کو شدید اضطراب اور بے چینی کی کیفیت سے دوچار کر دیا ہے، جس سے اب عوام یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ یہ سب کچھ ایک سوچی سمجھی سازش اور منصوبے کے تحت امن و امان کو سبوتاژ کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ بدامنی نے ہر لحاظ سے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، لیکن تمام اربابِ اختیار اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس سنگین مسئلے کو ذمہ داری اور سنجیدگی سے نہیں لے رہے؛ قوم اب اپنے پیاروں کے جنازے اٹھا اٹھا کر تھک چکی ہے، آخر کب تک یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا؟ انہوں نے واضح کیا کہ اب ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کی یہ مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اتفاقِ رائے سے قیامِ امن کے لیے ایک جامع لائحہ عمل طے کریں اور ملک دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو بے نقاب کریں، کیونکہ حکمرانوں نے اقتدار کی خاطر ملک کی سلامتی کو دا پر لگا دیا ہے جس کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے۔جے یو آئی (نظریاتی) کے قائدین نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ شہروں کے وسط سے آبادیوں پر راکٹ برسائے جا رہے ہیں، جبکہ عام شاہراہوں پر کنٹینرز، تاجروں کے سامان سے بھری گاڑیوں، اور کوئلے و دیگر معدنیات سے لادے عوامی ٹرکوں کو نذرِ آتش کرنے کے واقعات روز کا معمول بن چکے ہیں۔ ان پے در پے چیلنجز کے ذریعے ریاست کی رٹ کو کھلے عام چیلنج کیا جا رہا ہے جس سے ہر شہری اور تمام تجارتی و سماجی طبقات شدید پریشانی سے دوچار ہیں اور خود کو بالکل غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت کو سخت متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ کرنا ریاست اور اداروں کا آئینی فرض و ذمہ داری ہے؛ اگر متعلقہ ادارے اس بدامنی کے آگے بے بس ہو چکے ہیں تو پھر عوام کو اپنے تحفظ کی متبادل اجازت دی جائے۔
