تازہ ترین ۶ جولائی ۲۰۲۶

بلوچستان پرنٹ میڈیا کی جانب سے میڈیا پالیسی پر عمل درآمد فوری روکنے اور نئی پالیسی کی تشکیل کا مطالبہ

کویٹہ( پ ر)بلوچستان پرنٹ میڈیا کے چیئرمین سید انور شاہ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں میڈیا پالیسی کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورتحال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بغیر جامع مشاورت، زمینی حقائق اور صحافتی اداروں کی آراء کو شامل کیے گئے فیصلے نہ صرف متنازع بنتے ہیں بلکہ حکومت اور میڈیا کے درمیان اعتماد کو بھی مجروح کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سولہ اپریل 2026ء کے کابینہ اجلاس میں مجوزہ میڈیا پالیسی کی منظوری کے فوراً بعد بلوچستان پرنٹ میڈیا نے صدر مملکت۔وزیراعظم چیرمین سینٹ ڈپٹی چیرمین سینیٹ ۔ اسپیکر قومی اسمبلی ۔الوشیشن لیڈر۔ قومی و صوبائی اسمبلی ۔ حکومت بلوچستان، حکومتی اتحادی جماعتوں، اپوزیشن، سیاسی و سماجی تنظیموں، اخباری صنعت کے نمائندہ اداروں اور دیگر متعلقہ حلقوں کو اس پالیسی کی بنیادی خامیوں، اس کے ممکنہ نقصانات اور صحافتی صنعت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات سے آگاہ کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں مختلف سیاسی، صحافتی اور سماجی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا اور متعدد ذمہ دار شخصیات و اداروں نے بھی پالیسی پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا، تاہم حکومت نے ان خدشات کو دور کرنے کے بجائے یکم جولائی سے اس پالیسی پر عمل درآمد شروع کردیا۔ اب حکومت کی جانب سے مشاورت کی دعوت اس امر کا اعتراف ہے کہ پالیسی میں موجود خامیوں پر نظرثانی ناگزیر ہوچکی ہے۔سید انور شاہ نے کہا کہ اب آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) اور کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای)سمیت ملک کی نمائندہ صحافتی تنظیموں نے بھی انہی بنیادی نکات کی نشاندہی کی ہے جن پر بلوچستان پرنٹ میڈیا پہلے دن سے آواز بلند کرتا آرہا ہے۔ اس سے یہ حقیقت مزید واضح ہوگئی ہے کہ یہ معاملہ کسی ایک ادارے یا صوبے کا نہیں بلکہ پاکستان میں ذمہ دار، آزاد اور پیشہ ور صحافت کے مستقبل سے جڑا ہوا قومی مسئلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے میڈیا تنظیموں کو مذاکرات اور تجاویز دینے کی دعوت خوش آئند پیش رفت ہے، لیکن اس مشاورتی عمل کی کامیابی اسی صورت ممکن ہے جب حکومت فوری طور پر موجودہ میڈیا پالیسی پر عمل درآمد معطل کرے۔ متنازع پالیسی کے نفاذ کے ساتھ جاری رہنے والی مشاورت نہ صرف اپنے مقصد سے محروم رہے گی بلکہ اس دوران ہونے والے نقصانات کی تلافی بھی ممکن نہیں ہوگی۔چیئرمین بلوچستان پرنٹ میڈیا نے کہا کہ بلوچستان کے زمینی حقائق ملک کے دیگر صوبوں سے یکسر مختلف ہیں۔ آج بھی صوبے کے وسیع علاقوں میں بجلی، انٹرنیٹ اور جدید ڈیجیٹل سہولیات محدود ہیں۔ ایسے حالات میں پرنٹ میڈیا کو نظرانداز کرتے ہوئے یکطرفہ ڈیجیٹل نظام نافذ کرنا نہ صرف زمینی حقائق سے انحراف ہے بلکہ معلومات تک عوام کی رسائی، علاقائی صحافت کے فروغ اور مقامی اخبارات کی بقا کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کرے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان پرنٹ میڈیا جدید ٹیکنالوجی یا ڈیجیٹل میڈیا کی ترقی کا مخالف نہیں بلکہ ایسی متوازن، شفاف اور قابلِ عمل میڈیا پالیسی کا حامی ہے جس میں پرنٹ، ڈیجیٹل اور الیکٹرانک میڈیا کو مساوی مواقع، واضح قواعد و ضوابط، میرٹ، شفافیت اور احتساب کی بنیاد پر آگے بڑھنے کا یکساں حق حاصل ہو۔ کسی ایک شعبے کو دوسرے پر غیر منصفانہ برتری دینا صحافت کے بنیادی اصولوں اور عوامی مفاد دونوں کے منافی ہے۔سید انور شاہ نے وزیراعلیٰ بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ موجودہ میڈیا پالیسی پر فوری طور پر عمل درآمد روکنے کے احکامات جاری کیے جائیں اور اے پی این ایس، سی پی این ای، بلوچستان پرنٹ میڈیا، علاقائی اخبارات، صحافتی تنظیموں اور دیگر تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ایک مشترکہ مشاورتی کمیٹی تشکیل دی جائے، جو زمینی حقائق، آئینی تقاضوں اور صحافتی اصولوں کی روشنی میں ایک نئی، متوازن، قابلِ عمل اور دیرپا میڈیا پالیسی مرتب کرے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان پرنٹ میڈیا صحافت کے وقار، اخباری صنعت کے تحفظ، صحافیوں کے روزگار اور عوام کے حقِ معلومات کے دفاع کے لیے اپنی آئینی، قانونی اور جمہوری جدوجہد پوری ذمہ داری کے ساتھ جاری رکھے گا۔ تاہم اگر حکومت نے سنجیدہ مشاورت اور باہمی اتفاقِ رائے کے بجائے یکطرفہ فیصلوں پر اصرار کیا تو پرنٹ میڈیا اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے تمام آئینی، قانونی اور جمہوری ذرائع استعمال کرے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت بلوچستان پر عائد ہوگی۔