کوئٹہ (روزنامہ صداقت انٹرنیشنل) بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کے تحت صوبے کے تعلیمی اداروں کیلئے سرکاری درسی کتب کی طباعت کرنے والے بڈرز شدید مالی مشکلات کا شکار ہوگئے ہیں۔ بڈرز اور اشاعتی حلقوں نے حکومت بلوچستان اور چیئرمین بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ سے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ غیر معمولی مہنگائی کے پیش نظر فوری طور پر طباعت کے ریٹس پر نظرثانی کرتے ہوئے متاثرہ بڈرز کو خصوصی ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ تعلیمی نظام متاثر ہونے سے بچ سکے۔ تفصیلات کے مطابق یکم دسمبر 2025 کو بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے ٹینڈر کے ذریعے مختلف بڈرز کو سرکاری درسی کتب کی طباعت کی ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں۔ بڈرز نے سخت مقابلے کے ماحول میں انتہائی کم نرخوں پر ٹینڈرز حاصل کیے تھے۔ تاہم بعد ازاں بین الاقوامی صورتحال خصوصا امریکہ ایران کشیدگی اور جنگی ماحول کے باعث ملک بھر میں مہنگائی کا شدید طوفان آگیا جس کے نتیجے میں کاغذ، سیائی، بجلی، پرنٹنگ پریس، ٹرانسپورٹ اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہوگیا۔ بڈرز کے مطابق گزشتہ سال ایک ٹرک کا کرایہ ایک لاکھ بیس ہزار روپے تھا جبکہ موجودہ سال یہ کرایہ بڑھ کر دو لاکھ ساٹھ ہزار روپے تک پہنچ چکا ہے۔ اسی طرح اشاعتی اداروں کے اخراجات، مزدوری، بجلی کے بلز اور طباعتی سامان کی قیمتوں میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے جس کے باعث پہلے سے طے شدہ ریٹس پر کام جاری رکھنا انتہائی دشوار ہوگیا ہے۔ متاثرہ بڈرز کا کہنا ہے کہ حکام کی جانب سے انہیں یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ غیر معمولی مہنگائی کے باعث انہیں مناسب ریلیف دیا جائے گا، تاہم اس کے برعکس اب کام میں مزید دس فیصد اضافہ کردیا گیا ہے جبکہ ریٹس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ اس صورتحال نے بڈرز کو شدید مالی بحران سے دوچار کردیا ہے اور متعدد بڈرز کروڑوں روپے کے مقروض ہوچکے ہیں۔ بڈرز اور اشاعتی حلقوں نے کہا ہے کہ اگر موجودہ حالات میں فوری اقدامات نہ کیے گئے تو نہ صرف درسی کتب کی بروقت فراہمی متاثر ہوسکتی ہے بلکہ آئندہ کوئی بھی ادارہ یا بڈر سرکاری درسی کتب کی طباعت کیلئے ٹینڈر لینے پر آمادہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے چیئرمین بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے طباعت کے موجودہ ریٹس کا ازسرنو تعین کیا جائے اور بڈرز کو خصوصی مالی ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ تعلیمی نظام کا تسلسل برقرار رہ سکے۔
