تازہ ترین ۳ ستمبر ۲۰۲۶

بلوچستان میں فنی تعلیم اور ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر نگرانی کی ہدایت

کوئٹہ (ویب نیوز) چیف سیکریٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیرصدارت بی ٹیوٹا اور صوبے کے اسٹریٹیجک منصوبوں سے متعلق الگ الگ اہم اجلاس منعقد ہوئے، جن میں فنی و پیشہ ورانہ تعلیم، نوجوانوں کو روزگار سے جوڑنے، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور عوامی سہولیات کی بہتری کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ بی ٹیوٹا سے متعلق اجلاس میں منیجنگ ڈائریکٹر نے جاری اور آئندہ منصوبوں پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ فنی و پیشہ ورانہ تربیت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جارہا ہے، تربیتی نصاب کو ملکی و عالمی لیبر مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جارہا ہے جبکہ اداروں کی ڈیجیٹلائزیشن اور داخلہ نظام کو مرکزی و شفاف بنانے کے لیے 90 روزہ ترجیحی منصوبے پر عملدرآمد جاری ہے۔ چیف سیکریٹری نے ہدایت کی کہ بی ٹیوٹا کے ماتحت ٹیکنیکل اداروں کو مرکزی نگرانی اور یکساں معیار کے تحت منظم کیا جائے، نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری بڑھائی جائے اور انٹرن شپ، جاب میلوں اور مائیکروفنانسنگ کے ذریعے تربیت یافتہ نوجوانوں کو روزگار اور کاروباری مواقع فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے مقامی صنعت، تعمیرات، زرعی مشینری اور آئی ٹی سمیت زیادہ طلب والے ہنر پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت بھی کی۔ اجلاس کو بی ٹیوٹا کے ڈیجیٹل نظام، ملازمین کے ریکارڈ، تربیت یافتہ افراد، داخلوں، تجارت اور کارکردگی کے اعداد و شمار کو یکجا کرنے، بائیومیٹرک حاضری کو انسانی وسائل اور تنخواہوں کے نظام سے منسلک کرنے اور ہنرمند افراد کو روزگار کے مواقع سے جوڑنے کے لیے ڈیٹا بینک اور جاب پورٹل کے قیام سے متعلق پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔ بعد ازاں اسٹریٹجک منصوبوں سے متعلق اجلاس میں چیف سیکریٹری نے کہا کہ حکومت کے منصوبے محض ترقیاتی سرگرمیاں نہیں بلکہ عوام کو بہتر تعلیم، صاف پانی، روزگار، سفری سہولیات، جدید ٹیکنالوجی اور معاشی مواقع فراہم کرنے کا ذریعہ ہیں، اس لیے ان کی بروقت تکمیل، معیار اور شفافیت یقینی بنائی جائے۔ اجلاس میں اسکولوں میں اضافی کمروں کی تعمیر، صاف پینے کے پانی، پیپلز ٹرین، آر او اور الٹرا فلٹریشن پلانٹس، کمانڈ ایریا ڈویلپمنٹ، منی سولر ہومز، ماشکیل ڈیم، شرمپ ہیچری اور دیگر منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اسکولوں اور آئی ٹی سینٹرز کو فائبر آپٹک سے منسلک کرنے کے منصوبے کے تحت پہلے مرحلے میں 725 مقامات کو نیٹ ورک سے منسلک کیا جائے گا جبکہ 94 مقامات پر کام جاری ہے۔ چیف سیکریٹری نے متعلقہ محکموں کو منصوبوں کی باقاعدہ نگرانی، رکاوٹوں کے فوری خاتمے اور عوامی مفاد کے منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت کی۔