مقامی ۱۷ مئی ۲۰۲۶

بلوچستان میں بدامنی، جبری گمشدگیوں اور تعلیمی شخصیات پر حملوں پر ہیومن رائٹس کمیشن کا شدید ردِعمل

کوئٹہ(صداقت انٹرنیشنل)ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی)نے بلوچستان میں امن و امان کی مسلسل بگڑتی ہوئی صورتحال، شہریوں کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرات، جبری گمشدگیوں، ٹارگٹ کلنگ اور عسکریت پسند حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری اور مثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ ایچ آر سی پی کی جانب سے جاری کردہ ایک تفصیلی بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں حالیہ دنوں کے واقعات اس بات کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ صوبے میں شہریوں کے جان و مال کا تحفظ مسلسل ایک سنگین چیلنج بنتا جا رہا ہے۔بیان میں خاص طور پر گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر اور یونیورسٹی کے دو دیگر ملازمین کے مستونگ کے قریب گوادر سے کوئٹہ آتے ہوئے مبینہ اغوا کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ایچ آر سی پی کے مطابق، اس واقعے نے ریاستی اداروں کی جانب سے قومی اور اہم شاہراہوں کی سیکیورٹی اور شہریوں کے تحفظ کی صلاحیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگر اعلی تعلیمی اداروں کے سربراہان اور عملہ بھی مرکزی شاہراہوں پر محفوظ نہیں تو عام شہریوں کی سیکیورٹی صورتحال کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ کمیشن نے نوشکی میں معروف ماہر تعلیم اور دانشور پروفیسر غمخوار حیات کے قتل پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علمی شخصیات کو نشانہ بنانا پورے معاشرے، علمی ماحول اور مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک سنگین دھچکا ہے۔ہیومن رائٹس کمیشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گوادر یونیورسٹی کے لاپتہ وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر اور دیگر اہلکاروں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ہی پروفیسر غمخوار حیات کے قتل سمیت حالیہ تمام دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی شفاف، معتبر اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کروا کر ملوث عناصر کو فوری قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ شہریوں میں پائی جانے والی بے چینی اور عدم تحفظ کا خاتمہ ہو سکے۔ ایچ آر سی پی نے خبردار کیا کہ اگر ریاست فوری اقدامات میں ناکام رہی تو نہ صرف سیکیورٹی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے بلکہ عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بھی بری طرح متاثر ہوگا۔