بلوچستان میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور صوبائی حکومت کے درمیان جاری کشیدگی اب محض ایک انتظامی تنازع نہیں رہی بلکہ اس نے حکمرانی، ریاستی ذمہ داری اور عوامی مفاد سے متعلق اہم سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ کئی ہفتوں سے جاری احتجاج اور سرکاری اسپتالوں میں او پی ڈیز کی بندش کے باعث ہزاروں مریض، بالخصوص غریب اور دور دراز علاقوں سے آنے والے شہری، علاج کی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ ایسے بحران میں سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ مسئلے کے حل کے لیے بروقت، سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات کی مؤثر کوششیں نظر نہیں آئیں۔
جمہوری حکومتوں کی کامیابی کا پیمانہ صرف اختیارات کا استعمال نہیں بلکہ اختلافات کو مکالمے کے ذریعے حل کرنے کی صلاحیت بھی ہے۔ اگر کسی احتجاج کو ابتدا ہی میں گفت و شنید کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہو لیکن معاملہ طول پکڑ جائے، تو اس کی سیاسی اور انتظامی ذمہ داری حکومت پر بھی عائد ہوتی ہے۔ نیشنل پارٹی کے رہنما میر رحمت صالح بلوچ کی جانب سے حکومت کو فوری مذاکرات کا مشورہ اسی تناظر میں اہمیت رکھتا ہے۔ اپوزیشن کی ثالثی کی پیشکش بھی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ سیاسی قوتیں تصادم کے بجائے مفاہمت کی راہ ہموار کر سکتی ہیں۔
تاہم اس بحران کا دوسرا رخ بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ طبی پیشہ محض ایک ملازمت نہیں بلکہ عوامی خدمت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ احتجاج ہر شہری اور ہر پیشہ ور طبقے کا آئینی حق ہے، لیکن ایسی حکمت عملی جس کے نتیجے میں مریض علاج سے محروم ہو جائیں، اس پر سنجیدہ غور کی ضرورت ہے۔ اسی طرح احتجاج کے دوران سخت لب و لہجہ یا غیر محتاط طرزِ عمل بھی کسی مسئلے کے حل میں معاون ثابت نہیں ہوتا۔ حکومت اور ڈاکٹرز، دونوں پر یکساں ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عوامی مفاد کو اپنی حکمت عملی کا مرکز بنائیں۔
یہ بحران درحقیقت بلوچستان میں انتظامی استعداد اور مؤثر حکمرانی کے وسیع تر سوال کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ صوبہ پہلے ہی صحت، تعلیم، روزگار، بنیادی ڈھانچے اور امن و امان جیسے دیرینہ مسائل سے نبرد آزما ہے۔ اگر حکومت اپنے ہی ملازمین اور پیشہ ور تنظیموں کے ساتھ مؤثر رابطہ اور اعتماد کا رشتہ قائم نہیں رکھ سکتی تو بڑے سماجی اور معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت کے بارے میں بھی سوالات پیدا ہونا فطری امر ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ حکومت بحرانوں کے پیدا ہونے کا انتظار کرنے کے بجائے ادارہ جاتی مکالمے، بروقت فیصلوں اور شفاف طرزِ حکمرانی کو اپنی ترجیح بنائے۔
اس مرحلے پر کسی ایک فریق کی کامیابی یا ناکامی اہم نہیں، بلکہ اصل ترجیح عوام کے علاج، اداروں کے وقار اور ریاست پر عوام کے اعتماد کی بحالی ہونی چاہیے۔ حکومت کو فوری مذاکرات کا آغاز کرنا چاہیے، جبکہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کو بھی انسانی جانوں کی اہمیت کے پیش نظر ایسی حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے جس سے طبی خدمات متاثر نہ ہوں۔ بلوچستان کو اس وقت محاذ آرائی نہیں بلکہ سنجیدہ قیادت، باہمی اعتماد اور مؤثر حکمرانی کی ضرورت ہے، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو بحرانوں کو تنازعات بننے سے روک سکتا ہے اور عوام کے اعتماد کو بحال کر سکتا ہے۔
