کوئٹہ (ویب نیوز) بلوچستان اسمبلی کے ارکان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت عوام کے اربوں روپے مالیت کے باغات تباہ کرنے سے گریز کرے اور اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے، کیونکہ اس طرح کے اقدامات سے عوام کی تشویش، مایوسی اور معاشی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔ اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری، ارکان اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ، مولانا نوراللہ اور حاجی زابد علی ریکی نے اپنے بیان میں کہا کہ کوئٹہ کے گردونواح کے علاقوں خدکوچہ، مستونگ، دشت اور بلوچستان کے دیگر حصوں میں لوگوں کے لاکھوں اور اربوں روپے مالیت کے باغات موجود ہیں، جنہیں کاٹنا کسی صورت مناسب اقدام نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ باغات کسانوں کی سالہا سال کی محنت کا نتیجہ اور ہزاروں خاندانوں کے روزگار کا اہم ذریعہ ہیں۔ ان کے مطابق بلوچستان میں پہلے ہی کاروباری سرگرمیاں متاثر ہیں اور عوام شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں، ایسے حالات میں زراعت، فصلیں اور باغات لوگوں کی آمدن اور روزگار کے بنیادی ذرائع ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیرونِ ملک سے سبزیوں اور دیگر زرعی اجناس کی درآمد بھی مقامی کسانوں کے لیے بھاری مالی نقصان کا باعث بن رہی ہے، جبکہ ایک طرف مقامی پیداوار کی حوصلہ افزائی نہیں کی جا رہی اور دوسری طرف لوگوں کے تیار باغات کاٹے جا رہے ہیں۔ بلوچستان اسمبلی کے ارکان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ باغات کاٹنے کے فیصلے پر فوری نظرثانی کی جائے، متاثرہ کسانوں کے خدشات دور کیے جائیں، زراعت اور باغبانی کے شعبے کو عملی معاونت فراہم کی جائے اور ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے صوبے میں زراعت، باغبانی، کاروبار اور روزگار کے مواقع مزید مضبوط ہوں۔
