اوستا محمد (ویب نیوز)جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنما حافظ حمداللہ نے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے اس بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے کہ باغات سے فائرنگ کی صورت میں باغ کے مالک کو سہولت کار سمجھ کر کارروائی کی جائے گی۔ حافظ حمداللہ نے کہا ہے کہ چور گھر میں گھسیں اور ڈاکو فرار ہوجائیں تو گھر کے مالک کو ڈاکو قرار دینا کہاں کا انصاف ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے اوستا محمد کے صحافیوں سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے کہی حافظ حمداللہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ کا مؤقف قانون انصاف اور عقل و منطق کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے گھر میں چور داخل ہوں ڈاکو واردات کے بعد فرار ہوجائیں تو کیا گھر کے مالک کو ہی ڈاکو یا سہولت کار قرار دے کر کارروائی کی جائے گی انہوں نے کہا کہ کسی بھی شخص کو جرم میں ملوث قرار دینے کے لیے ٹھوس شواہد اور قانونی تقاضوں کی تکمیل ضروری ہے محض شبہ یا قیاس کی بنیاد پر شہری کو سہولت کار قرار دینا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔حافظ حمداللہ نے مزید کہا کہ یہ طرزِ عمل مرض کہیں اور علاج کہیں اور کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ فائرنگ کرنے والے اصل عناصر کا سراغ لگا کر ان کے خلاف قانونی کارروائی کرے بجائے اس کے کہ باغات کے مالکان کو محض شبہ کی بنیاد پر سہولت کار قرار دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ امن و امان کا قیام حکومت کی ذمہ داری ہے اس لیے ایسے اقدامات کیے جائیں جو اصل جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کا باعث بنیں۔ حافظ حمداللہ نے کہا کہ عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے بے گناہ شہریوں کو شک کی بنیاد پر کارروائی کا نشانہ بنانا مسائل کا حل نہیں بلکہ اس سے عوام میں مزید بے چینی اور عدم تحفظ پیدا ہوگا۔
