کراچی(ویب نیوز) پرنسپل انفارمیشن آفیسر رئیسہ عادل نے اے پی این ایس ہاؤس کا دورہ کیا اور سندھ سے تعلق رکھنے والی اے پی این ایس ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان سے ملاقات کی، اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل پی آئی ڈی کراچی ارم تنویر بھی موجود تھیں۔ اے پی این ایس کے صدر سینیٹر سرمد علی نے رئیسہ عادل کا خیرمقدم کرتے ہوئے اخباری صنعت کو درپیش معاشی مشکلات سے آگاہ کیا اور کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے پرنٹ میڈیا کے سرکاری اشتہارات کے نرخ بڑھانے کا وعدہ تاحال پورا نہیں ہوا، حکومت وعدے کے مطابق اشتہارات کے نرخوں میں اضافہ کرے۔ انہوں نے تجویز دی کہ نئے طریقہ کار کی تشکیل تک اشتہارات کے نرخوں کو اے بی سی سے منسلک رکھنے کے بجائے منجمد کیا جائے اور آڈٹ بیورو آف سرکولیشنز اور پریس رجسٹرار کے دفاتر کو ضم کرکے ایک ادارہ قائم کیا جائے۔ اے پی این ایس ارکان نے اے بی سی اور رجسٹرار کے نظام میں اصلاحات، رجسٹریشن کے قواعد آسان بنانے، 2020 کی اشتہاری پالیسی کے بعد رکن مطبوعات کے واجبات کی جلد ادائیگی اور پرنٹ میڈیا کے لیے سرکاری اشتہارات میں منصفانہ حصہ مختص کرنے کا مطالبہ کیا۔ اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ موجودہ سرکاری اشتہاری پالیسی بڑی حد تک 1964 کے فریم ورک پر مبنی ہے، جس کا موجودہ میڈیا کی ضروریات کے مطابق جامع جائزہ ضروری ہے۔ پرنسپل انفارمیشن آفیسر رئیسہ عادل نے اے پی این ایس ارکان کو مسائل کے جلد حل کے لیے کوششوں کی یقین دہانی کرائی۔
