تازہ ترین ۱۵ اگست ۲۰۲۶

اے آئی مواد کی شناخت کیلئے واٹر مارکنگ، مصنوعی ذہانت کو پکڑنا کتنا آسان ہوگا؟

کوئٹہ (ویب نیوز) 15 اگست 2026ء: مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تحریریں میڈیا سمیت مختلف شعبوں میں تیزی سے عام ہونے کے باعث یہ سوال اہم ہوگیا ہے کہ کسی متن کے انسان یا اے آئی کے ذریعے تیار کیے جانے کی شناخت کیسے کی جائے۔ کلاڈ تیار کرنے والی کمپنی اینتھروپک نے اپنے اے آئی ماڈلز سے تیار ہونے والی تحریروں میں پوشیدہ واٹر مارکس شامل کرنے کا اعلان کیا ہے، جو عام قاری کو نظر نہیں آئیں گے تاہم خصوصی ٹیکنالوجی کے ذریعے ان کی شناخت کی جاسکے گی۔ یہ واٹر مارک الفاظ کے انتخاب اور ترتیب میں ایک مخصوص پیٹرن کی شکل میں ہوگا، جو تحریر کے مفہوم کو تبدیل نہیں کرے گا۔ گوگل کے جیمنائی میں بھی اسی نوعیت کی ٹیکنالوجی استعمال کی جارہی ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق یہ نظام مکمل طور پر ناقابلِ شکست نہیں، کیونکہ متن کو بڑے پیمانے پر دوبارہ لکھنے، دوسری زبان میں ترجمہ کرنے یا مکمل طور پر دوبارہ ٹائپ کرنے سے واٹر مارک کا سگنل ختم ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ واٹر مارک کی موجودگی یا عدم موجودگی کو اے آئی مواد کا حتمی ثبوت قرار نہیں دیا جاسکتا، تاہم مستقبل میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کی شناخت میں یہ ٹیکنالوجی اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔